خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 381
خطبات ناصر جلد دوم ۳۸۱ خطبه جمعه ۸ / نومبر ۱۹۶۸ء اللہ تعالیٰ پر کامل تو کل اور پورا بھروسہ ہو تو اس مادی دنیا کے اسباب وہ خود اپنے فضل سے پیدا کر دیتا ہے خطبه جمعه فرموده ۸ رنومبر ۱۹۶۸ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات قرآنیہ کی تلاوت فرمائی۔اِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِرُونَ - (يوسف: ۶۸) قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ أَمَنَا بِهِ وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا فَسَتَعْلَمُونَ مَنْ هُوَ فِي ضَلِلٍ مُّبِيْنٍ - (الملك: ٣٠) اس کے بعد فرمایا:۔انسان کی پیدائش ہی کچھ اس قسم کی ہے کہ اگر وہ یکا و تنہا ہو تو اس کی ضرورتیں پوری نہیں ہوسکتیں اسے دوسروں پر بھروسہ کرنا پڑتا ہے دوسروں کا اعتماد حاصل کرنا پڑتا ہے دوسروں پر توکل کرنا پڑتا ہے ایک دوسرے کی مدد کرنی پڑتی ہے اس کے بغیر اس زندگی کے کام کامیابی کے ساتھ نہیں چل سکتے۔ایک تو گل یا بھروسہ یا اعتماد اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اسے نظر انداز کر کے اور اس سے منہ موڑ کر حاصل کیا جاتا ہے اور ایک ایسا بھروسہ اور سہارا ہے جو اس کی وساطت سے اور اس کے ذریعہ سے حاصل کیا جاتا ہے چونکہ یہ دنیا اسباب کی دنیا ہے اس لئے اسباب کی ضرورت الہی قانون کے