خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 376
خطبات ناصر جلد دوم خطبہ جمعہ یکم نومبر ۱۹۶۸ء نہیں لیکن جو بھی منتظم ہیں وہ ایک با قاعدہ پروگرام بنا کر میرے سامنے پیش کریں اور اس سال کے جلسہ سالانہ سے پہلے تو نہیں کیونکہ وقت بہت کم ہے لیکن اگلے جلسہ سالانہ سے پہلے ساری اوپن سپیسز (Open Spaces) صاف ہونی چاہئیں وقار عمل کے نتیجہ میں یا جہاں پیسے خرچ کرنے کی ضرورت ہو وہاں پیسے خرچ کئے جائیں اللہ تعالی اخراجات کا انتظام کر دے گا وہ میرے پاس آئیں اور جو مشکل ہو میرے سامنے بیان کریں بہر حال اگلے جلسہ سالانہ (۱۹۶۹ء) سے پہلے پہلے ان کھلی جگہوں کو صاف کر دیا جائے ، پانی کا انتظام کر کے ان میں درخت لگائے جائیں اور چھوٹے بچوں کے کھیلنے ( کا) ان میں انتظام کیا جائے، چھوٹے بچوں کی ہم نے تربیت کرنی ہے ان سے ورزش بھی کروانی ہے ان کے ذہنوں کو مصروف رکھنا ہے اور انہیں ایسے کام کی طرف لگانا ہے جو ان کے خیالات کو نا پاک کرنے والا نہ ہو کھیل کے وقت میں ان سے ورزش کرائی جائے جس طرح تحریک جدید نے بچوں کے لئے کھیلنے کا انتظام کیا ہوا ہے اور وہ بڑا اچھا انتظام ہے اسی طرح ہر ایک محلہ میں ایک سے زائد ا نتظام کئے جائیں معمولی خرچ ہے جو ان میدانوں کو صاف کرنے اور انہیں بچوں کے لئے کھیلنے کے قابل بنانے پر آئے گا اور یہ کام آئندہ جلسہ سالانہ سے پہلے پہلے ہو جانا چاہیے اور پھر ایک پروگرام کے ماتحت ہر کھلی جگہ پر بچوں کے لئے کھیلنے کا سامان مہیا کر دینا چاہیے اس کام پر کچھ خرچ ہو تو کوئی بات نہیں کیونکہ بچوں کا حق ہے کہ ان پر بھی روپیہ خرچ کیا جائے۔اللہ تعالیٰ فضل کرے گا تو اخراجات بھی مہیا ہو جائیں گے کیونکہ جہاں تک ضرورت حقہ کا سوال ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے خود انتظام کر دیتا ہے یہاں بھی اللہ تعالیٰ انتظام کر دے گا۔بہر حال ربوہ کا ماحول ایسا ہونا چاہیے کہ یہ دنیا کا بہترین قصبہ ہو اب تو بعض دفعہ غیر آتے ہیں تو وہ طعنہ دیتے ہیں کہ ہم ربوہ گئے تھے تو فلاں سڑک فلاں جگہ بڑی خراب تھی اور بعض دفعہ ایسا طعنہ ملتا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ محلہ والے آدھا گھنٹہ بھی کام کرتے تو اس طعنہ سے ہم بچ جاتے صرف بات یہ ہے کہ اس طرف توجہ نہیں کی جاتی۔میں نے شروع میں کہا تھا کہ میں ربوہ کے مکینوں کو برا نہیں سمجھتا نہ میں انہیں کچھ کہنے کے لئے تیار ہوں کیونکہ بہر حال انہوں نے قربانی دی ہے اور یہاں آکر آباد ہوئے ہیں آخر وہ ساری دنیا کو چھوڑ کر یہاں آئے ہیں لیکن جن لوگوں کا یہ فرض تھا