خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 367 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 367

خطبات ناصر جلد دوم خطبہ جمعہ یکم نومبر ۱۹۶۸ء بڑی کثرت سے گندے کپڑوں والے لوگ پھر رہے ہوتے ہیں یہاں ان کی تعداد بہت کم ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے لیکن یہاں ایک آدمی بھی گندے کپڑوں میں نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اسلام نے ہمیں گندہ رہنا سکھایا ہی نہیں اور ایسے لوگوں کو بڑے پیار سے کہنا چاہیے کہ اپنے کپڑے دھو ہر آدمی خود اپنے کپڑے دھو سکتا ہے اس میں کوئی دقت نہیں صرف خیال اور توجہ کی کمی ہے۔ایک جرمن یہاں رہے ہیں بعد میں تو ان پر کچھ ابتلا بھی آیا تھا لیکن جب وہ یہاں تھے مجھے کسی نے بتایا کہ وہ روزانہ جب رات کو رات کا لباس پہنتے تھے تو دن کے پہنے والے کپڑے دھو لیتے تھے اگر کپڑے روزانہ دھوئے جائیں تو شاید صابن کی بھی ضرورت نہ پڑے یا اگر ضرورت پڑے بھی تو بہت کم صابن کی ضرورت ہو۔پھر گھر صاف ہونا چاہیے گھر کا جو ماتھا ہے وہ صاف ہونا چاہیے جس طرح ہمارے چہرہ پر نجاست لگی ہوئی ہو تو دیکھنے والے اسے پسند نہیں کریں گے اور نہ آپ اس کو پسند کریں گے اسی طرح آپ کے گھر کا جو فرنٹ ہے اس کا جو چہرہ ( ما تھا) ہے وہ بھی آپ ہی کا چہرہ ہے اسے صاف رکھنا چاہیے۔بعض لوگوں کو عادت ہوتی ہے کہ وہ گھر کے اندرونے حصہ کو صاف کرتے ہیں تو کوڑا کرکٹ مین دروازہ کے سامنے پھینک دیتے ہیں کوڑا کرکٹ پھینکنے کے لئے اگر کوئی انتظام نہیں تو وہ ہونا چاہیے اور اگر ہے تو گند اسی جگہ پھینکنا چاہیے جہاں ایسا کرنے کے لئے انتظام کیا گیا ہے اور اگر پہلے سے کوئی انتظام موجود نہیں تو جماعتی نظام کو یا دوسرے جو نظام ہیں ان کو اس طرف متوجہ کرنا چاہیے اور کہنا چاہیے کہ ایسا انتظام کرو کہ ہماری گلیوں میں گندگی نہ ہو۔پھر گلیوں کی نالیاں بھی صاف رکھنی چاہئیں پھر صرف ظاہری پاکیزگی ہی اصل چیز نہیں بلکہ یہ تو ایک علامت ہے ایک ذریعہ ہے اندرونی پاکیزگی کا اس لئے دل کے خیالات پاک ہونے چاہئیں ، آنکھیں پاک ہونی چاہئیں یعنی انسان بد نظر نہ ہو پھر زبان پاک ہونی چاہیے۔ہمارے ہاں یہ مسئلہ ضرور ہے کہ ہر سال بہت سے خاندان یہاں آکر آباد ہو جاتے ہیں ان خاندانوں کے بچے اپنے ساتھ اچھی عادتیں بھی لاتے ہیں اور بُری عادتیں بھی لاتے ہیں مثلاً زمیندار ہیں گوان میں سے ایک حصہ کو ذکر الہی کی عادت ہوتی ہے گالیوں کی عادت نہیں ہوتی