خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 333
خطبات ناصر جلد دوم ۳۳۳ خطبه جمعه ۴/اکتوبر ۱۹۶۸ء اس وقت تک اس کی ظاہری عبادتیں ( نماز روزہ وغیرہ ) اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں نہیں ہوتیں۔غرض اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے جور بوبیت تامہ کی خاطر ہرانسان کو اس کی استعداد کے مطابق اس کے کمال تک پہنچانے کے لئے اپنی حفاظت میں لے لیتی ہے اور جس وقت اللہ تعالیٰ انسان کو اپنی حفاظت میں لے لیتا ہے اسی وقت اس کے لئے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ اپنے روحانی اور جسمانی کمالوں تک پہنچے۔انسان کی حفاظت کے لئے یہ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا ممد و معاون ہو اس لئے فرمایا کہ تم یہ دعا کرو کہ اے ہمارے رب! تو ہمیں اپنی حفاظت میں لے لے (اور یاد رکھو کہ اطاعت ہی میں سب حفاظتیں ہیں ) اور تیری حفاظت میں وہی آسکتا ہے جسے تیری مدد اور نصرت مل جائے کیونکہ تیری مدد اور نصرت کے بغیر ایسے سامان پیدا نہیں ہو سکتے کہ انسان کو تیری حفاظت حاصل ہو اور تیری مدد اور نصرت کوئی انسان اپنے زور سے لے نہیں سکتا اس کے لئے ضروری ہے کہ تو اس کی طرف رجوع برحمت ہو تو اُسے اپنی رحمتوں سے نوازے۔غرض اس دعا میں اللہ تعالیٰ نے توحید کا سبق ہمیں دیا اور ربوبیت تامہ کی طرف ہمیں متوجہ کیا اور ہمیں بتایا کہ تمام اشیا ( مخلوقہ ) مضرت اسی وقت پہنچاتی ہیں جب اللہ تعالیٰ کا اذن مضرت پہنچانے کا ہو اور تمام نفع مند چیزوں سے انسان صرف اس وقت نفع حاصل کر سکتا ہے جب اللہ تعالیٰ کا بھی یہ منشا ہو کہ وہ ان سے نفع حاصل کرے اس لئے خدا سے یہ دعا کرو کہ اے ہمارے رب ! مضرتوں سے ہماری حفاظت کر، نفع ہمیں پہنچا، ہماری نصرت اور مد دکو آ اور ہمیں اپنی رحمتوں سے نواز۔یہ دعا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہانا سکھائی گئی ہے اور آپ نے فرمایا ہے کہ یہ اسم اعظم ہے کیونکہ اس میں ربوبیت تامہ اور سچی توحید کو بیان کرنے اور اس کا اقرار کر نے کے بعد انسان دعا کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور تین بنیادی چیزیں اللہ تعالیٰ سے طلب کرتا ہے۔(۱) ایک اس کی حفاظت (۲) ایک اس کی نصرت اور (۳) ایک اس کی رحمت