خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 311 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 311

خطبات ناصر جلد دوم ٣١١ خطبه جمعه ۲۰ ستمبر ۱۹۶۸ء غرض جو دعائیں میرے دل سے نکلتی ہیں وہی دعا ئیں جماعت کے دوسرے دوست کر رہے ہوتے ہیں حالانکہ میں نے کوئی اعلان نہیں کیا ہوتا کہ اس قسم کی دعائیں کرو لیکن چونکہ ساری جماعت ایک ہی وجود کا رنگ رکھتی ہے اس لئے ہر احمدی کے دل میں وہی جذبات ہوتے ہیں وہی خیالات ہوتے ہیں ان کی روحوں پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض کا وہی اثر ہوتا ہے اور وہ وہی دعائیں مانگ رہے ہوتے ہیں جو میں مانگ رہا ہوتا ہوں اور اس سے بڑا لطف آتا ہے کہ خلیفہ وقت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ہزاروں دعائیں معجزانہ رنگ میں قبول کرتا ہے میں جب قبولیت دعا کے متعلق خط پڑھتا ہوں تو یہ سوچ کر کانپ اُٹھتا ہوں کہ میں اتنا کمزور ، گناہگار اور بے بس انسان ہوں اور اللہ تعالیٰ اس قدر پیار کا سلوک مجھ سے کرتا ہے اور بعض دفعہ میرا دل چاہتا ہے کہ میں یہ چیز میں جماعت کے سامنے بھی رکھوں کیونکہ جب میری کوئی دعا قبول ہوتی ہے تو وہ صرف میری دعا ہی قبول نہیں ہوتی بلکہ ساری جماعت کی دعا قبول ہوتی ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا قبول ہوتی ہے میں نے یہ ایک مثال دی ہے کہ ساری جماعت یہ دعا کرتی ہے کہ میری دعائیں قبول ہوں اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے حضور جو چیز پہنچتی ہے وہ خالی میری دعا نہیں ہوتی بلکہ ہزاروں لاکھوں ستونوں پر کھڑی ہو کر وہ اللہ تعالیٰ کے حضور پہنچتی ہے خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ میں نے اس جماعت کو ایک خاص مقصد کے لئے پیدا کیا ہے اور اس کو ایک خاص روحانی وجود عطا کیا ہے اور اس کو یہ توفیق عطا کی ہے کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں گم ہو جائے اور فنا ہو جائے اور ایک موت اپنے پر وارد کر کے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض اور برکات سے ایک نئی زندگی حاصل کرے اور ان فیوض و برکات کے طفیل میں ان کی دعاؤں کو قبول کرتا ہوں۔غرض خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ میں نے قبولیتِ دعا کے جو وعدے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کئے تھے وہ میں اس جماعت کے حق میں بھی پورا کروں گا کیونکہ یہ کوئی دوسرا وجود نہیں یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا وجود ہے۔دعا کا فلسفہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کھول کر بیان کیا ہے کہ کبھی اللہ تعالیٰ انسان سے اپنی منواتا ہے اور کبھی وہ اپنے بندے کی مانتا ہے اور جب وہ اپنے بندے کی مانتا ہے تو وہ اس پر بڑا احسان کر رہا ہوتا ہے کیونکہ اس کا کوئی حق نہیں