خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 310 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 310

خطبات ناصر جلد دوم ۳۱۰ خطبه جمعه ۲۰ ستمبر ۱۹۶۸ء کی دعا قبول نہیں ہوئی بلکہ حقیقتا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی دعا قبول ہوئی ) مثلاً چند سال ہوئے ایک بڑا حادثہ گزرا تھا یعنی حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وصال ہوا تھا اس وقت ساری دنیا کے احمدیوں نے سینکڑوں اور ہزاروں کی تعداد میں جو خط مجھے لکھے ان سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ہر ایک کے سینہ میں ایک ہی دل دھڑک رہا ہے ان میں سے ہر ایک اس دعا میں مشغول تھا کہ اے ہمارے پیارے ربّ! تو جماعت کو ہر قسم کے فتنوں سے محفوظ رکھ ان میں سے کسی فرد کو کوئی ٹھوکر نہ لگے اور امن کے ساتھ اور بشاشت کے ساتھ یہ قافلہ آگے ہی آگے بڑھتا چلا جائے ایک بے چینی، بے کلی اور گھبراہٹ کی حالت تھی جو سب پر طاری تھی سب کی نیند یں حرام ہوگئی تھیں اور وہ سب ان دعاؤں میں مشغول تھے پھر جب امن پیدا ہوا اور جماعت کے لئے اللہ تعالیٰ نے سکون کے حالات میں ایک نیا دور شروع کر دیا تو اس وقت اگر کوئی کھڑا ہو کر یہ کہے کہ خدا نے میری دعا قبول کی باقیوں کی نہیں کی تو ہم کہیں گے کہ اس کا دماغ چل گیا ہے وہ پاگل ہو گیا ہے وہ حقیقت کو نہیں سمجھتا اسی طرح باقی دعائیں ہیں۔میرے پاس بڑی تعداد میں خطوط آتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اور اسی کی توفیق سے سارے خطوط میں خود پڑھتا ہوں گو عام دعائیہ خطوط کی فہرست بنتی ہے لیکن وہ بھی میرے سامنے آتے ہیں اور ان پر میں ایک نظر ڈالتا ہوں اور اکثر خطوط میں یہ دعا ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی دعائیں قبول کرے اسی طرح میں جو دعا کرتا ہوں وہ صرف میری دعا تو نہیں رہی بلکہ وہ دعا ان لاکھوں آدمیوں کی ہو گئی جو یہ دعا کر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ میری نیک دعاؤں کو قبول کرے اور جب یہ دعا قبول ہوتی ہے تو میرا دل یہ دیکھ کر خدا کی حمد سے بھر جاتا ہے کہ اس نے ایک روحانی وجود یعنی جماعت مومنین کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل جو وعدے دیئے تھے وہ پورے ہورہے ہیں۔یہ جماعت واقعہ میں دعاؤں کے میدان میں ایک جان ہے بعض دفعہ حالات کو دیکھ کر جو دعائیں میرے دل سے نکلتی ہیں چند دن نہیں گزرتے کہ باہر کے خطوط میں وہی دعائیں آجاتی ہیں مثلاً جماعت پر آج کل پریشانی کے حالات ہیں اللہ تعالیٰ جماعت کی حفاظت کرے وغیرہ وغیرہ۔