خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 309 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 309

خطبات ناصر جلد دوم ۳۰۹ خطبه جمعه ۲۰ ستمبر ۱۹۶۸ء اے خدا! محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے متعلق اور اپنی اُمت کے لئے جتنی دعائیں کیں تو انہیں قبول کر تو جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا قبول ہوگی تو کیا اس جماعت مومنین کی دعا آپ ہی آپ قبول نہیں ہو رہی ہو گی جو یک زبان ہو کر وہی دعا کر رہی ہے جن کے سینوں میں وہی دل دھڑک رہا ہے جو لوگ اسی سوز و گداز کے ساتھ دعائیں کرنے والے ہیں ان کی دعا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے مختلف نہیں اور جس وقت ان لوگوں کی دعا قبول ہوتی ہے تو وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں ہی قبول ہو رہی ہوتی ہیں کیونکہ گواختلاف تو اپنی جگہ پر قائم ہے اور وہ یہ کہ آپ کا مقام مقام تدلی ہی نہیں بلکہ (جیسا کہ میں نے بتایا ہے ) مقام وحدتِ تامہ بھی ہے اور سچی بات یہی ہے کہ وہی ایک ذات محبوب الہی ہے باقی تو ذیلی حیثیت رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ہے کہ وہ جو چاہیں گے انہیں مل جائے گا۔حقیقتا یہ مقام ( کہ جو چاہے مل جائے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی حاصل ہے لیکن آپ کا جو دوسرا مقام ہے یعنی مقام تدثی اس لحاظ سے تو سب کو ایک جسم بنا دیا ہے ساری اُمت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں گم ہو گئی اور اس طرح ایک وجود بن گیا اس لئے ان سب کی دعائیں کوئی علیحدہ دعائیں نہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا بھی اس مقام کے لحاظ سے کوئی علیحدہ دعا نہیں ساری دعائیں مل کر ایک دعا بنتی ہے دعا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی قبول ہو رہی ہوتی ہے لیکن چونکہ جماعت مومنین آپ کے وجود ہی کا ایک حصہ ہے اس لئے ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ جماعت مومنین کی دعائیں بھی ( آپ کے طفیل ) قبول ہوئیں۔آپ کی نیابت میں خلفاء وقت کام کرتے ہیں خلافت کے متعلق امت کو یہ بشارت دی گئی تھی کہ دین کی تمکنت اور خوف کے دور ہونے اور اطمینان اور سکون کے پیدا ہونے کے حالات پیدا کئے جائیں گے بظاہر خلیفہ وقت کی دعائیں بھی اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے اور بڑے معجزانہ رنگ میں قبول کرتا ہے لیکن جب یہ عاجز بندے اللہ تعالیٰ کے سلوک پر گہری نگاہ ڈالتے ہیں اور اپنی کوتاہیوں پر نظر ڈالتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی طرف سے معجزانہ سلوک دیکھتے ہیں تب انہیں یہ نکتہ سمجھ آتا ہے کہ صرف ان کی دعا قبول نہیں ہوئی بلکہ ساری جماعت کی دعا قبول ہوئی (اور ساری جماعت