خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 281 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 281

خطبات ناصر جلد دوم ۲۸۱ خطبہ جمعہ ۶ ستمبر ۱۹۶۸ء کی خاطر غلط راستوں کو بھی اختیار نہیں کرنا چاہیے مثلاً اگر باپ یہ کہے کہ نظام نے یہ پابندی تو لگائی ہے کہ سینما نہیں دیکھنا لیکن میرے بچے چونکہ ضد کر رہے ہیں اور میں ان کو روک بھی نہیں سکتا سینما دیکھنا ایک برائی ہوگی لیکن یہ یہاں کی بدصحبت میں چلے جائیں گے اور ایک اور برائی میں پھنس جائیں گے اس لئے میں ان کی حفاظت کے لئے سینما ساتھ چلا جاتا ہوں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ (المائدة : ١٠٦) کہ ہر شخص اپنی جان کی حفاظت کرے اگر کوئی دوسرا ہدایت نہیں پاتا اور یہ اپنی ہدایت اور حفاظت کا سامان کر لیتا ہے تو اسے ان لوگوں کی غلط روی نقصان نہیں پہنچائے گی ہر شخص کو اپنی حفاظت اپنی ہدایت کی فکر کرنی چاہیے اور وہ اس کا سامان کرے کن لوگوں کے لئے وہ ہدایت کو ٹھکرا دے اُخروی زندگی میں وہ کسی کام نہیں آئیں گے اس زندگی میں ان کا کوئی بھروسہ نہیں بڑے چاؤ سے باپ اپنے بچے کو ( پالتا ہے ) اس پر خرچ کرتا ہے پڑھاتا ہے بظاہر اس کی تربیت کرتا ہے پھر بھی خامی رہ جاتی ہے جب وہ بڑا ہوتا ہے کمانے لگتا ہے اپنے باپ کو پوچھتا بھی نہیں اس زندگی میں بھی کام نہیں آتا بعض شریف الطبع خدا کے خوف سے اپنے والدین کا احترام کرتے ہیں اور چھوٹے پر شفقت کرتے ہیں لیکن ایسے بھی تو ہیں جو اپنے ماں باپ کو نہیں پوچھتے اعتبار نہیں ہے اگر خدا افضل کرے تو نیک اولاد ہو خدمت گذار اولا د ہو اور اگر اس کے فضل کو یہ گم کر دیں اور اس کی رحمت سے محروم کر دیئے جائیں اپنی بداعمالیوں کے نتیجہ میں تو اس دنیا میں بھی کام نہیں آتے تو کون کسی کے کام آتا ہے لیکن ایک ذات ہے کہ اگر اس کے ساتھ تعلق ہو تو وہ ہر آن ہمارے کام آتی ہے اور وہ ہمارے رب کی ذات ہے اسے چھوڑ کے دنیا کے رشتے قائم کریں گے یہ تو مناسب نہیں ہے۔فرما یا ایمان کا تقاضا یہ ہے اے مومنو! کہ عَلَيْكُمُ انْفُسَكُم جان کی حفاظت کس طرح کی جائے یہ پہلے بھی آچکا ہے لیکن یہاں ان دو کو علیحدہ دہرایا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے سورۃ توبہ میں يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّدِقِيْنَ - (التَّوبة : ١١٩) اے ایمان والو! ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ایک تو اللہ کی پناہ میں آ جاؤ اور دوسرے لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَحَ جو گمراہ ہیں ان کی صحبتوں سے پر ہیز کرو اور اس کے مقابلہ میں جو خدا تعالیٰ