خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 280
خطبات ناصر جلد دوم ۲۸۰ خطبہ جمعہ ۶ ستمبر ۱۹۶۸ء ایک اور تقاضا ایمان کا يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ حَقَّ تُقَتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ (ال عمران : ۱۰۳) فرمایا کہ ایمان کا ایک تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اس کی تمام شرائط کے ساتھ اختیار کیا جائے۔تقویٰ کے معنی یہ ہیں کہ بُری رذیل اور گناہ کی باتوں کو اس لئے چھوڑ دینا کہ اللہ تعالیٰ ناراض نہ ہو جائے اور نیکیوں کی راہوں کو بھی ترک کرنے سے اس لئے بچنا کہ نیکی کی راہ ترک کر کے بھی اللہ تعالیٰ ناراض ہو جاتا ہے اور جب شیطان حملہ آور ہو تو اس وقت خدا تعالیٰ کو اپنی ڈھال بنالیتا ہے خدا تعالیٰ کی پناہ میں آجاتا ہے یہ ہیں تقویٰ کے معنی۔انسان کہہ سکتا تھا کہ میں کمزور ہوں میں شیطان کے حملوں سے کیسے بچوں گا خدا تعالیٰ نے فرمایا میری پناہ میں آجاؤ شیطان کے حملوں سے بچ جاؤ گے تو فرمایا کہ ایمان کا ایک تقاضا یہ ہے کہ تمہیں شیطان کے حملوں کا کامیابی کے ساتھ جواب دینا چاہیے چونکہ تم کمزور ہو اس کے حملوں کا کامیابی کے ساتھ جواب نہیں دے سکتے اس لئے ہم تمہیں یہ راستہ بتاتے ہیں کہ تم ہماری پناہ میں آ جاؤ ہمیں اپنی ڈھال بنالو شیطان کا کوئی وار تمہارے خلاف کامیاب نہیں ہو گا بعض دفعہ شیطان یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ اپنے بھائی کو راضی کرلوں اپنے بچے جوان ہیں پہلے میں ان کو تیار کرلوں کہ وہ اسلام لائیں پھر میں ہوں گا لیکن موت کا کچھ پتہ نہیں ہو تا زندگی کا کیا اعتبار ہے ایک واقعہ ابھی ہماری زندگی میں ہوا ہے ایک شخص کو ہمارے ایک احمدی تبلیغ کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ میں استخارہ کروں گا اپنی کچھ شرائط کے ساتھ اگر مجھے علم ہوا کہ احمدیت سچی ہے تو میں ایمان لے آؤں گا چنانچہ انہوں نے استخارہ کرنا شروع کیا اور تیسرے دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کو کہا گیا وہ سچا ہے وہ سچا ہے وہ سچا ہے انہیں کہا گیا کہ اب ایمان لاؤ تو وہ شخص کہنے لگا کہ نہیں ایک خامی رہ گئی ہے میرے استخارہ میں میں چھٹی پر جا رہا ہوں اپنے وطن جب واپس آؤں گا تو پھر نئے رنگ میں اس خامی کو دور کر کے استخارہ کروں گا اور اگر پھر مجھے بتایا گیا تو میں ایمان لے آؤ گا چنانچہ وہ چھٹی پر گیا لیکن واپس نہیں آیا وہیں اس کی وفات ہوگئی۔تو جس وقت ہدایت کی راہیں کھل جائیں اس وقت ہدایت کو مان لینا بڑا ضروری ہے اور یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ میرے رشتہ دار یا بچے وغیرہ جو ہیں ان کو بھی میرے ساتھ آنا چاہیے پھر ان