خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 271 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 271

خطبات ناصر جلد دوم ۲۷۱ خطبه جمعه ۳۰ اگست ۱۹۶۸ء ضمناً یہاں منافقوں کا بھی ذکر ہے۔منافق زبان سے تو عہد پر قائم ہوتا ہے ظاہر یہ کرتا ہے کہ اس نے اللہ تعالیٰ سے جو عہد باندھا تھا وہ اس پر قائم ہے اور شیطان کی آواز کو سن کر وہ قبول نہیں کرتا لیکن اس کا دل اس کی زبان کے خلاف گواہی دے رہا ہے ایسے لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر ان کی کسی باطنی خوبی کی وجہ سے خدا نے یہ چاہا کہ انہیں اس کی ابدی رحمتوں سے محروم نہ کیا جائے تو ان کے لئے تو بہ کا سامان پیدا کر دیا جائے گا اور اگر اس میں کوئی ایسی خوبی نہ ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق یہی فیصلہ کیا کہ اس کو سوء اور دکھا اور عذاب اور جہنم دی جائے تو پھر اللہ تعالیٰ اس کو عذاب دے گا۔چونکہ منافق کی حالت چھپی ہوئی ہوتی ہے جہاں اس کی بعض کمزوریاں ظاہر ہوتی ہیں وہاں بہت سی کمزوریوں کو وہ چھپاتا بھی ہے یہ نفاق کا ایک حصہ ہے ایسا شخص اپنی کمزوریوں پر پردہ ڈالتا ہے۔سوء عمل کے مقابلہ میں ریا کا پہلو زیادہ ہوتا ہے جہاں بھی ریاممکن ہو۔مثلاً یہ جنگ میں نہیں جائے گا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں میدانِ جنگ میں جانے سے منافق گھبراتے تھے لیکن ان میں سے بعض ایسے تھے جو نمازوں میں بڑے خشوع اور خضوع کا اظہار کرتے تھے۔تو اللہ تعالیٰ تو دلوں کو جانتا ہے۔ظاہری شکل تو اسے پیاری نہیں۔جو شخص اپنے دل میں اپنے رب کی محبت نہیں رکھتا۔جو شخص اس عہد پر ثبات قدم نہیں رکھتا جو اس نے اپنے اللہ سے باندھا ہے اگر اس کے اندر کوئی خوبی ہوئی اور خدا نے اپنی رحمت کے جلوے اسے دکھانے ہوئے تو اسے تو بہ کی توفیق عطا کر دے گا ایسے سامان پیدا ہوجائیں گے کہ اس کا دل بدل جائے ، اس کی ظلمت دور ہو جائے ، ظلمت کی بجائے نور آ جائے۔سر سے پاؤں تک اللہ کے نور سے وہ منور ہو جائے اور وہ جو مالی قربانی دینے سے گھبراتا تھا وہ اپنے سارے اموال کو خدا کی راہ میں قربان کر دینے کے لئے تیار ہو جائے۔وہ جو خدا کی راہ میں دکھوں کی برداشت نہیں رکھتا تھا ایک کا نٹا بھی چبھ جائے تو واویلا کرنا شروع کر دیتا تھا وہ اپنی جان دینے کے لئے تیار ہو جائے۔وہ جو خدا کی راہ میں اپنی بیوی اور بچوں کی خاطر کمزوریاں دکھانے والا تھا اس کے دل میں یہ تڑپ پیدا ہو جائے کہ میری بیوی اور بچے خدا پر اور اس کے رسول پر اور اس کے سلسلہ پر قربان ہو جائیں۔اگر یہ تبدیلی پیدا ہو جائے ، اگر اس کے لئے حقیقی تو بہ کے سامان ہو جائیں تو پھر اللہ تعالیٰ