خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 270
خطبات ناصر جلد دوم ۲۷۰ خطبه جمعه ۳۰ اگست ۱۹۶۸ء دنیا کی ایسی حقیر نعمتوں کو ، ایسی حقیر چیزوں کو حاصل کرتے ہیں کہ اُخروی نعماء کے مقابلہ میں ان کی کوئی قیمت ہی نہیں۔انہیں یہ یا درکھنا چاہیے کہ یہ بڑا مہنگا سودا ہے۔دنیا کی چند جھوٹی مسرتوں والی گھڑیاں اس زندگی میں شاید وہ گزار لیں ، ایک مصنوعی آرام ایک بے وفالذت اور ایک بے حقیقت مسرت لیکن پھر ایسے لوگوں کو اُخروی زندگی کی نعماء میں سے کوئی حصہ نہیں ملے گا۔لا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الآخِرَةِ اس لئے سچا سودا کرنے والا وہی ہے جو اپنے رب سے سودا کرتا اور اپنے عہد کو آخری دم تک نبھاتا ہے۔نفع مند تجارت اس کی ہے جو ثمن قلیل کو چھوڑتا اور اس سرمایہ کو اور اس نفع کو حاصل کرتا ہے جو سرمایہ کبھی ختم نہ ہوگا، جو نفع ابدی طور پر اسے حاصل ہوتا رہے گا۔اللہ تعالیٰ نے سورۃ احزاب میں جس کی تفسیر بہت سی دوسری آیات میں پائی جاتی ہے جن میں سے بعض کا ذکر میں نے اس مضمون میں بیان کیا ہے۔یہ فرمایا کہ اللہ کا حکم رحمت کے دروازے کھلنے کے متعلق اس شخص کے لئے ہوتا ہے جو اس عہد پر مضبوطی سے قائم رہے جو عہد اللہ تعالیٰ نے اس سے لیا۔جو عہد بیعت اس نے خدا اور اس کے رسول اور اس کے خلفاء سے کیا۔ایک تو وہ ہیں کہ جن کا انجام بخیر ہوا کہ آخری سانس تک وہ اس عہد پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہے اور ایک وہ ہیں جن کے ثبات قدم میں کہیں تزلزل واقع نہیں ہوتا، کبھی ان کو خیال ہی نہیں آتا کہ دنیا کے کسی لالچ یا دنیا کے کسی خوف کی وجہ سے اپنے رب سے اپنا تعلق قطع کر لیں گے اور اس عہد کو وہ توڑ دیں گے۔جب وہ اپنے عہد پر اس مضبوطی کے ساتھ قائم ہوتے ہیں اور اپنے رب کے لئے ہر چیز قربان کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں اور حقیقی مسرت ان خوشیوں سے حاصل کرتے ہیں جو ان کے رب کی طرف سے ان کو ملیں اور وہ جانتے ہیں کہ جو مسرتیں شیطان اور شیطان کے منبع سے حاصل ہوتی ہیں وہ بے حقیقت ہیں جو ابدی سرور سے محروم کر دینے والی ہیں تو یہ وہ لوگ ہیں۔۔صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ اور یہی وہ لوگ ہیں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کا سلوک کرے گا جیسا کہ اس کی اگلی آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ غفور الرحیم ہے۔