خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 262 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 262

خطبات ناصر جلد دوم ۲۶۲ خطبه جمعه ۲۳ راگست ۱۹۶۸ء بتوسط روح القدس انسان کو ملتی ہے اور قرآن کریم کا بڑے زور شور سے یہ دعویٰ ہے کہ وہ حیات روحانی صرف متابعت اس رسول کریم سے ملتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں اپنی زبان میں اگر اس کا خلاصہ کرنا ہو تو وہ یہ ہوگا کہ جو شخص روحانی زندگی حاصل کرنا چاہے اور اس روحانی زندگی کے حصول کے بعد اللہ تعالیٰ جو حیات محض ہے اور جس کی قدرتوں پر دنیا کی ہر شے کی حیات منحصر ہے اس کے بغیر وہ زندگی قائم ہی نہیں رہ سکتی تو اس قسم کی روحانی زندگی جو حاصل کرنا چاہے اس کے لئے ضروری ہے کہ روح القدس اس کی مدد کو آئے اور روح القدس سے وہ ان چیزوں کو ان ذرائع کو حاصل کرے جن کے حصول کے بعد روحانی زندگی ملا کرتی ہے اور روح القدس کی مدد سے یہ اس کو ملتی ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنے والا اور آپ کی سنت پر چلنے والا ہو اور جوشخص ابدی روحانی زندگی چاہتا ہے اور جسے یہ پسند نہیں جس کے متعلق قرآن کریم نے کہا ہے لا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيى (الاعلى: ۱۴) کہ نہ وہ زندگی ہوگی نہ موت ہوگی پریشانی کا ایک عالم ہوگا بے اطمینان کی ایک دنیا ہوگی تکلیف اور دکھ ہو گا جس سے نجات کا کوئی راستہ نظر نہیں آئے گا برداشت کی طاقت نہیں ہوگی اگر ایسی زندگی نہیں بلکہ وہ زندگی جو پاک زندگی ہے وہ زندگی جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل روح القدس کی شاگردی حاصل کرنے کے بعد زندہ خدا سے تعلق قائم کرنے کے بعد انسان کو ملتی ہے وہ زندگی اگر حاصل کرنی ہو تو ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ ہے کہ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ - (الاحزاب : ۲۲) تو اٹھارہویں آیت میں یہ فرمایا تھا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کے لئے رحمت کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے رحمت سے محروم نہیں رکھا جا سکتا پھر آگے جا کر مختلف آیات میں اسی سورۃ احزاب میں یہ بیان کیا کہ رحمت کا فیصلہ کس قسم کے لوگوں کے متعلق کیا جاتا ہے اس کے متعلق میں پہلے بتا چکا ہوں آج میں نے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کے لئے رحمت کا فیصلہ کرتا ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنے والا ، آپ کی سنت کی پیروی کرنے والا ، آپ کے احکام کی اطاعت کرنے الا اور ہر قسم کی بدعتوں اور رسوم سے بچنے والا ہو اور یہ رحمت کبھی پاکیزگی کی شکل میں ملتی ہے اس