خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 228 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 228

خطبات ناصر جلد دوم ۲۲۸ خطبہ جمعہ ۲۶ جولائی ۱۹۶۸ء ہوتے ہیں اور اس کی حمد بھی کرتے ہیں لیکن ہمارے دل میں دنیا کی محبت اسی طرح ٹھنڈی رہتی ہے جس طرح پیسہ دیتے وقت ٹھنڈی تھی لیکن جب ہم یہ پیسہ دیتے ہیں تو دنیا کے اموال دینے کے علاوہ وہ ہم سے اتنا پیار کرنے لگ جاتا ہے کہ اس کے ایک ایک احسان اور پیار اور محبت کے جلوہ کے بعد انسان کے نفس کا کچھ باقی نہیں رہتا وہ فنا ہو جاتا ہے وہ اتنا پیار کرنے والا ہے اور یہی پیار ہے جو ہماری زندگی ہے یہی پیار ہے جو ہماری بقا ہے ہماری جنت ہے اور یہ چیز جب ہمیں مل جاتی ہے تو پیسہ کیا وہ اگر ہم سے سب کچھ لے لے اور ہمیں اپنی محبت دے دے تو ہم خوش ہیں پس اپنے وعدے جلد ادا کریں ممکن ہے کہ کوئی اور اہم تحریکات فضل عمر فاؤنڈیشن کے چندوں کے بند ہونے کا انتظار کر رہی ہوں اور اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ ہو کہ بات تو ضروری ہے لیکن ایک سال ان لوگوں کو انتظار کروالینا چاہیے کہ کہیں ان پر زیادہ بوجھ نہ پڑ جائے اس لئے آپ جلدی جلدی چندے ادا کریں تا کہ اللہ تعالیٰ کے قرب اور اس کی رحمت کے نئے دروازے کھلنے کے امکان آپ کے لئے پیدا ہو جا ئیں اور خدا کرے کہ نئے نئے دروازے رحمت کے ہم پر کھلتے رہیں۔اس وقت قریباً چودہ پندرہ لاکھ روپیہ قابل وصول ہے اور نسبت کے لحاظ سے غیر ممالک میں زیادہ نسبت قابل وصول کی ہے اور کم نسبت وصول شدہ کی ہے ہمارے پاکستان کے لحاظ سے زیاده نسبت وصول شدہ کی ہے اور کم نسبت قابل وصول کی ہے بہر حال جو بھی نسبت ہو ہم نے بحیثیت جماعت اور ہم میں سے ہر ایک نے بحیثیت فردا اپنے وعدوں کو پورا کرنا ہے اور اس کی طرف ہمیں متوجہ ہونا چاہیے اللہ تعالیٰ ہم پر فضل کرے۔ایک مضمون میں نے شروع کیا ہوا تھا اب وہ شاید کراچی جا کر ختم ہو گا خدا کی جو مرضی ہو اس میں بڑا لطف آتا ہے ایک لمبا سا مضمون ذہن میں آگیا کلاس (فضل عمر تعلیم القرآن کلاس ) میں میں نے اسے شروع کیا تھا اور اس کے دو حصے تھے ایک حصہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ بعض لوگوں کے متعلق سُوء کا حکم جاری ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے لئے جب ارادہ کا لفظ بولا جائے تو لغوی لحاظ سے اس کے معنی حکم ہی کے ہوتے ہیں اور جب کسی گروہ کے متعلق سُوء کا حکم جاری ہوتا ہے تو پھر کوئی طاقت اس کو خدا کے