خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 11 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 11

خطبات ناصر جلد دوم 11 خطبه جمعه ۵/جنوری ۱۹۶۸ء میں گندگی پھیلتی ہے اگر خدام الاحمدیہ ہمت کرے اور انصار اور اطفال بھی ان کے ساتھ شامل ہوں تو کم از کم دو دن عصر اور مغرب کے درمیان ربوہ کو صاف ستھرا کرنے پر خرچ کرنے چاہئیں۔قرآن کریم نے بھی اس طرف بڑی توجہ دی ہے اور ہمیں توجہ دلائی ہے کہ مکہ کے متعلق جو طهرا کا حکم تھا وہ خالی ان دو کے لئے نہیں تھا بلکہ ان سب کے لئے ہے جو مقاصد کعبہ کے حصول کی تمنا اور خواہش رکھتے اور ان برکات سے حصہ لینے کے آرزو مند ہیں جن کا تعلق خانہ کعبہ سے ہے۔تو صفائی کی طرف اہل ربوہ خاص طور پر متوجہ ہوں اور اپنی گلیوں اور سڑکوں کو صاف ستھرا رکھیں۔اسی طرح وہ دکاندار جو مستقل یہاں تجارت کرتے ہیں یا وہ جو عارضی طور پر جلسہ کے دنوں میں اپنی دکانیں لگاتے ہیں ان کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنی دکان میں ایسا انتظام کریں کہ وہاں کسی قسم کا کوئی گند پیدا نہ ہو۔مثلاً مالٹے یا سنگترے یا اور پھل کھایا جاتا ہے یا بعض اور چیزیں کھائی جاتی ہیں جن کا ایک حصہ (چھلکے وغیرہ) پھینکنا پڑتا ہے۔یہ اس طرح نہ پھینکے جائیں کہ گندگی نظر آئے ان سب کو سمیٹ دینا چاہیے اور صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔لیکن سب سے بڑی ذمہ داری اہلِ ربوہ پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کی مہمان نوازی کی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اللہ تعالیٰ کے نام پر ہزاروں کو بلاتے ہیں جو لبیک کہتے ہوئے ان ایام میں یہاں جمع ہو جاتے ہیں اور جماعت مہمان نوازی کا انتظام کرتی ہے۔کچھ تو مادی اشیا ہیں کھانے پینے کی چیزیں یا مکان وغیرہ وغیرہ اس کا انتظام تو منتظمین کے سپر د ہے وہ کرتے ہیں۔لیکن اس انتظام کو خوش اسلوبی سے سرانجام دینے کے لئے ضروری ہے کہ رضا کارانہ خدام انہیں میسر آئیں، بعض نوجوان بھی اور بڑے بھی بڑی محبت اور بڑے پیار کے ساتھ یہ خدمت چوبیس گھنٹے بجالاتے ہیں۔لیکن بعض وہ بھی ہیں جو اس موقع کی خدمت کی برکتوں سے ناآشنا نظر آتے ہیں۔اللہ ان پر رحم کرے اس موقع پر مہمان نوازی کرتے ہوئے خدمت بجالانے کا بڑا ہی ثواب ہے پس خود کو اور اپنے بچوں کو اس ثواب سے محروم نہ رکھیں۔ہم نے ، ہمارے سارے گھر نے اپنے بچپن کا زمانہ بھی (اور بڑے ہو کر بھی ) جلسے کے دنوں کی خدمت کو اتنے محبت اور پیار سے ادا کیا ہے کہ کبھی یہ احساس نہیں ہوا کہ ہم کسی پر ذرہ احسان