خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 213 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 213

خطبات ناصر جلد دوم ۲۱۳ خطبہ جمعہ ۱۹؍ جولائی ۱۹۶۸ء سے زیادہ وہ گرمی ہے اس سے بچاؤ کی کوئی صورت کرنی چاہیے اگر وہ نیت کرے تو باقی سب چیزیں تو جیسے پنجابی میں کہتے ہیں ”جھونگے وچ مل جان گیاں اصل چیز یہی ہے کہ خدا کی رضا کو حاصل کیا جائے اور گرمی میں اس لئے برداشت نہیں کرتا کہ میرے بچے یا میں پیٹ بھر کر کھاؤں بلکہ یہ میں اس لئے برداشت کرتا ہوں کہ اس کے نتیجہ میں جو مال حلال مجھے ملے اس کا ایک بڑا حصہ خدا کی راہ میں خرچ کروں اور دوسری زندگی میں اپنے لئے آرام کی جنتوں اور رضا کی جنتوں اور رحمتوں کی جنتوں کے سامان کر لوں ایک مشقت تو یہ ہے اور ایک مشقت ہے حوادث زمانہ کی اللہ تعالیٰ قانون قدرت کے مطابق انسان کو ابتلا میں ڈالتا ہے۔بعض کو اس کی مصلحت سمجھ آتی ہے اور بعض کو سمجھ بھی نہیں آتی مثلاً جوان بچہ فوت ہو گیا اب یہ ایک حادثہ ہے یا مثلاً ایک زمیندار نے روئی اکٹھی کی تھی کسی حادثہ کی وجہ سے اس کو آگ لگ گئی اور مالی نقصان ہو گیا اس طرح کے ہزاروں حوادث ہیں جو کبھی آندھی کی شکل میں آتے ہیں کبھی مینہ کی شکل میں آتے ہیں کبھی وباؤں کی شکل میں آتے ہیں کبھی اس قسم کے حادثات پیش آتے ہیں کہ مثلاً شادی کرنے جارہے تھے کہ رستہ میں موٹر کا ایکسیڈنٹ (Accident) ہو جاتا ہے اور دولہا مرجاتا ہے یا دلہن مرجاتی ہے یہ ساری حوادث زمانہ کی تکلیفیں ہیں ایک مومن بندہ اپنے رب پر اعتراض نہیں کرتا بلکہ جس وقت اس قسم کا حادثہ ا سے پیش آئے وہ الْحَمدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ پڑھ رہا ہوتا ہے وہ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ پڑھ رہا ہوتا ہے۔اپنے خالق کے لحاظ سے وہ الْحَمدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ پڑھتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ حادثہ خواہ میرے لئے کتنا تکلیف دہ ہو مگر اس کے نتیجہ میں میرے ربّ کے اوپر کوئی حرف نہیں آتا اس کی حمد اور اس کی تعریف اسی طرح قائم ہے اس لئے وہ کہتا ہے الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ العلمین وہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے جسم کو ، میرے دل کو ، میرے دماغ کو ، میری آنکھوں کو ایسا بنایا ہے کہ جوان بیٹا اگر مر جاتا ہے تو دل میں درد بھی اٹھتا ہے، آنکھوں میں آنسو بھی آتے ہیں دماغ میں پریشانی بھی پیدا ہوتی ہے مگر انا اللہ ہم سب اللہ کے ہیں یہ بھی اللہ کا تھا اللہ نے اسے اپنے پاس بلالیا میں بھی اللہ کا ہوں اور ایک دن میں بھی اس کے پاس چلا جاؤں گا۔خدا اگرا اپنی رحمت کے سامان پیدا کرے تو میں اور میرا بیٹا اس کی جنتوں میں پھر ا کٹھے ہو جائیں گے چند دن