خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 208
خطبات ناصر جلد دوم ۲۰۸ خطبہ جمعہ ۱۹؍ جولائی ۱۹۶۸ء (میں ) نے کلاس کے سامنے جو باتیں اس وقت تک بیان کر دی ہیں وہ یہ ہیں۔۱۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں :۔إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللهِ الْإِسْلَامُ یعنی سب دین جھوٹے ہیں مگر اسلام ۲۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ 19 إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الْإِسْلَام کے یہ معنی ہیں کہ دین سچا اور کامل اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسلام ہے اور جو کوئی بجز اسلام کے کسی اور دین کو چاہے گا تو ہر گز قبول نہیں کیا جاوے گا اور وہ آخرت میں زیاں کاروں میں سے ہوگا۔“ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام فرماتے ہیں کہ اِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الْإِسْلَامُ کے یہ معنی ہیں کہ ”اسلام کے سوا اور کوئی دین قبول نہیں ہو سکتا اور یہ نرا دعویٰ نہیں تاثیرات ظاہر کر رہی ہیں۔اگر کوئی اہل مذہب اسلام کے سوا اپنے مذہب کے اندر انوار و برکات اور تاثیرات رکھتا ہے تو پھر وہ آئے ہمارے ساتھ مقابلہ کر لے میں نے انہیں یہ بتایا تھا کہ قرآن کریم کی یہ روحانی تا خیرات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ ختم نہیں ہو گئیں بلکہ آپ کے بعد آپ کی جماعت میں جو سلسلہ خلافت قائم کیا گیا ہے اس سے بھی یہ وابستہ ہیں اور آج بھی یہ دعوت مقابلہ قائم ہے۔۴۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس آیت کے چوتھے تفسیری معنی یہ کئے ہیں کہ وہ دین جس میں خدا کی معرفت صحیح اور اس کی پرستش احسن طور پر ہے وہ اسلام ہے۔،، ۵۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک معنی یہ کئے ہیں کہ سچا اسلام یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی ساری طاقتوں اور قوتوں کو مادام الحیات وقف کر دے تا کہ وہ حیات طیبہ کا وارث ہو۔۶۔چھٹے معنی اس آیت کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ کئے ہیں کہ اسلام کی حقیقت ہی یہ ہے کہ اس کی تمام طاقتیں اندرونی ہوں یا بیرونی ،سب کی