خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 204 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 204

خطبات ناصر جلد دوم ۲۰۴ خطبہ جمعہ ۱۲ جولائی ۱۹۶۸ء ہرلمحہ جو وہ گزارتے ہیں ، اخلاق کا ہر مظاہرہ جو ان سے سرزد ہوتا ہے بچوں سے محبت اور پیار کا سلوک جود نیا ان سے دیکھتی ہے اس کے پیچھے یہی روح کام کر رہی ہوتی ہے کہ جس نے خدا کی رضا کے لئے اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ ڈالا اس نے بھی ثواب حاصل کر لیا۔غرض مومن اپنے ہر دنیوی کام کو اُخروی جزا اور اُخروی نعماء کے حصول کا ذریعہ بنالیتا ہے اور اس کے متعلق نہیں کہا جاسکتا ہے کہ وه ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِی الحیوۃ الدنیا والے گروہ میں ہے لیکن بہت سے لوگ ہمیں ایسے بھی نظر آتے ہیں، بہت سی قومیں ہمیں ایسی نظر آتی ہیں جو راہ بھول گئے ہیں ان کو پتہ ہی نہیں کہ سیدھا راستہ کون سا ہے اس لئے وہ مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کے گروہ میں شامل نہیں کئے جاسکتے وہ ضالّ کے گروہ میں شامل ہو سکتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی اصلاح کے ذرائع تو اختیار کرے گا اور وہ انہیں سخت بھی محسوس ہوں گے لیکن اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے شروع ہی میں سورۃ فاتحہ میں ان دو گروہوں میں ایک فرق کر دیا یعنی ایک کو مَغْضُوب کہا ہے اور ایک کو ضال کہا ہے یہ لوگ صراط مستقیم کو پہچانتے نہیں۔ضالین یہ سمجھتے ہیں کہ جس راستہ پر وہ ہیں بس وہی ٹھیک ہے نہ وہ خدا کو پہچانہیں نہ کوئی آسمانی تعلیم ایسی ہے جس کے اوپر ان کا پختہ یقین ہے۔وہ سمجھتے ہیں بس یہ دنیا پیدا ہوئی یا اگر ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو سمجھتے ہیں کہ دنیا کو اللہ نے پیدا کیا ہے مگر اتنی بڑی ہستی ان عاجزوں سے ایک زندہ تعلق کیوں قائم رکھے گی اس لئے اس کا ہمارے ساتھ کوئی زندہ تعلق نہیں غرض اپنی حماقت ، اپنی بیوقوفی ، اپنی روایات ( ہزار قسم کی وجوہات ہو سکتی ہیں ان سب وجوہات ) کے نتیجہ میں وہ راہ گم کر بیٹھے ہیں اور اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ اگر یہ جماعت مومنین جو احیائے اسلام کے لئے پیدا کی گئی ہے ضالین کے سامنے بھٹکتے ہوئے راہی کے سامنے ہدایت پیش کرے گی تو ان میں سے بہت سے اسے قبول کر لیں گے کیونکہ ان کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ جان بوجھ کر انشراح صدر کے ساتھ ضلالت کی راہوں کو اختیار نہیں کرتے بلکہ بھٹکے ہوئے ہیں۔ان کو صراط مستقیم کا پتہ ہی نہیں۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دعا کرتے رہو کہ کبھی ایسا نہ ہو کہ ہم میں سے کوئی فرد یا جماعت گمراہی میں، کفر میں، پڑ کر ایک حصہ ان کا مغضوب بن جائے اور ایک حصہ ان کا ضال بن جائے یعنی ہر شخص دعا کرنے والا اپنے اور اپنوں کے لئے یہ دعا کرے کہ اے خدا میری فطرت میں