خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 202
خطبات ناصر جلد دوم خطبہ جمعہ ۱۲ جولائی ۱۹۶۸ء ایسا نہ ہو کہ ہم شیطان کی طرح تیری معرفت رکھنے کے باوجود اس بات پر یقین رکھتے ہوئے کہ تیری طرف لے جانے والی صراط مستقیم کون سی ہے پھر بھی اس راہ کو چھوڑ دیں اور شیطان کی راہوں کو اختیار کر لیں اور یہ ہو نہیں سکتا جب تک تیرا فضل اور تیری رحمت ہمارے شامل حال نہ ہو اس لئے تجھ سے یہ عاجزانہ دعا ہے کہ ہمیں مغضوب کبھی نہ بنانا۔وَلَا الضَّانِينَ اور نہ بھی ہمیں ضال بنانا ضال سیدھے راہ سے بھٹکنے والے کو کہتے ہیں اور قرآن کریم نے اس کے یہ معنی کئے ہیں کہ الَّذِینَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيوةِ الدُّنْيَا (الكهف :۱۰۵) پس ضالین وہ ہیں جن کی تمام کوششیں ان راہوں کی تلاش میں رہتی ہیں جو اُخروی زندگی سے ورے ورے ختم ہو جاتی ہیں۔ضَلَّ سَعْيُهُمُ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْیاوہ اس ورلی زندگی کے کناروں سے نکل کر اُخروی زندگی تک نہیں پہنچتیں۔راہ بھٹک جاتی ہے کوشش جو ہے وہ آگے چل ہی نہیں سکتی ایسے راستے وہ اختیار کرتے ہیں جن کا صرف اس دنیا سے تعلق ہے حالانکہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے یہ ساری چیزیں (خواہ وہ قوتیں اور استعدادیں ہوں یا مادی سامان ہوں یا فطرت کے تقاضے ہوں ) اس لئے دی تھیں کہ اس دنیا میں وہ ختم نہ ہوں نہ صرف اس دنیا سے ان کا تعلق ہو بلکہ ان کے نتیجہ میں انسان اس دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کی جنت کو حاصل کرے اور اس دنیا میں بھی وہ اس رضا کی جنت کو حاصل کرے لیکن ایک گروہ انسانوں میں سے یا بعض افراد ایسے ہوتے ہیں کہ جوان قوتوں کی انتہا اس دنیا کے ورے ورے سمجھتے ہیں اسی طرح دنیا کے جو سامان ہیں ان کے متعلق سمجھتے ہیں کہ وہ بس دنیا میں ہی ہمارے کام آئیں گے حالانکہ ایک عقلمند مومن یہ جانتا ہے کہ وہ بکرا جو خدا نے مجھے دیا ہے اور جو گوشت پوست ہے اور اس کی زندگی بھی چھوٹی ہے ایک ایسی چیز ہے جو صرف اس دنیا میں ہمارے کام نہیں آسکتی بلکہ اگر ہم چاہیں تو یہ اس دوسری دنیا میں بھی ہمارے کام آئے گی کیونکہ اگر ہم چاہیں تو تقوی کا ٹیگ لیبل اس کے ساتھ لگا دیں تو بکرا یہاں رہ جائے گا لیکن وہ ٹیگ، وہ لیبل آسمانوں کے خدا کے پاس پہنچ جائے گا۔لَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِن يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمُ (الحج: ٣٨) تقویٰ کے ساتھ لگا تو بکرا اللہ کے حضور پہنچ گیا اور تمہارے لئے دوسری زندگی میں بھی مفید ہوگا ( یہ زندگی تو اس زندگی کے مقابلہ میں اتنی