خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 196
خطبات ناصر جلد دوم ۱۹۶ خطبہ جمعہ ٫۵جولائی ۱۹۶۸ء سے ہمیں یہ تعلیم دی ہے (اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان آیات کی تفسیر بڑی وضاحت سے کی ہے ) کہ اس مادی دنیا میں تدبیر اور مادی اسباب سے کام لینا ضروری ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کے قوانین کے مطابق کوشش اور تد بیر نہیں کرتا وہ ناشکر ابھی ہے اور ایک معنی میں مشرک بھی ہے۔پس کوشش اور تدبیر ایک مومن کے لئے نہایت ہی ضروری فریضہ ہے وہ جو اپنے خدائے رحیم کو پہچانتے نہیں وہ اس رنگ میں کوشش اور تدبیر کو فریضہ نہیں سمجھتے۔وہ اپنے مطلب کے لئے جائز اور ناجائز کوششیں کرتے رہتے ہیں لیکن ایک مومن خدا کے بتائے ہوئے طریق پر جائز کوشش اور تد بیر کرنے کو اپنے اوپر فرض سمجھتا ہے پس آپ پوری توجہ کے ساتھ قرآن کریم کے سیکھنے کی کوشش کریں اور اپنے وقت کو ضائع نہ کریں بلکہ اپنے ان قیمتی لمحات میں قرآن کریم کے انوار سے زیادہ سے زیادہ منور ہونے اور اس کے معارف کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ہمیں اسلام نے یہ بھی بتایا ہے کہ کوشش کا نتیجہ خدائے رحیم نکالتا ہے اور کوشش اور تدبیر مکمل نہیں ہوتی جب تک کہ ہم اپنے خدائے رحیم کے سامنے عاجزانہ جھک کر اس سے یہ دعائیں نہ کرتے رہیں کہ کوشش اور تدبیر تیرے کہنے کے مطابق ہم نے کر لی ہے۔مگر ہم جانتے ہیں کہ اس کا وہ نیک نتیجہ جو ہم چاہتے ہیں کہ نکلے نکل نہیں سکتا جب تک تیرا رحم اور تیر افضل ہمارے شامل حال نہ ہو۔پس بہت دعائیں کریں اور جس مقصد کے لئے آپ یہاں جمع ہوئے ہیں اس مقصد کو آپ حاصل کر سکیں۔یہاں جماعت احمدیہ کا مرکز ہے اور الہی سلسلوں میں منافقوں کا وجود اللہ کی نگاہ میں ضروری قرار دیا گیا ہے اس لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد جہاں ہزاروں لاکھوں فدائی تھے ، جان نثار تھے اللہ تعالیٰ کی معرفت پوری طرح رکھنے والے تھے اللہ تعالیٰ کی صفات کو جاننے والے تھے وہ ہر چیز اس پر قربان کرنے کے لئے تیار تھے وہاں انتہائی طور پر منافق لوگوں کا وجود بھی تھا یہاں تک کہ مدینہ میں رہنے والے اور ایک مسلمان کہلانے والے نے یہاں تک کہہ دیا کہ جو زیادہ معزز ہے ( یعنی وہ خود ) وہ اس کو جو سب سے زیادہ ذلیل ہے (نعوذ باللہ ) مدینہ سے