خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 177 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 177

خطبات ناصر جلد دوم 122 خطبہ جمعہ ۱۴ / جون ۱۹۶۸ء دعویٰ کیا ہے اور ایک عقلمند اس کو صحیح سمجھنے پر مجبور ہو جاتا ہے، ان گنت نعمتیں اس نے عطا کیں اور جسمانی لحاظ سے اور ذہنی لحاظ سے اور اخلاقی لحاظ سے اور روحانی لحاظ سے رفعتوں پر پہنچاتا چلا گیا لیکن جب انسان جو حقیقتاً اپنے رب کی اور اس کی صفات کی معرفت حاصل کر لیتا ہے جب اس مقام پر پہنچا کہ اُس نے سمجھا کہ میں نے انتہائی رفعت کو پالیا اس وقت اُس کے سامنے اُس کا مالک آ جاتا ہے یعنی خدا جو مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ ہے اور اُس کو یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ اسی کا سہارا تھا اُس نے سہارا دیا اور بلندیوں پر لے گیا اپنے نفس کو دیکھتا ہوں تو خالی ہاتھ پاتا ہوں تب ایک انتہائی خوف اور قلق دل میں پیدا ہوتا ہے اور انسان اپنے رب کے حضور جھکتا ہے اور کہتا ہے کہ اے خدا! کسی نیکی کا کسی بزرگی کا، کسی پاکیزگی کا میں دعویدار نہیں ہوں لیکن اے میرے پیارے تو ملِكِ يَوْمِ الدِین ہے اس واسطے مالک کی حیثیت سے مجھ پر اپنی رحمت کو نازل کر اُس دن جس دن تو سب دنیا کو اکٹھا کرے گا اور تیرا فیصلہ حق کا فیصلہ ہوگا۔خدا کرے کہ ہم اُس کی صفات کو ہمیشہ پہچانتے رہیں اور معرفت کے مقام پر رہیں اور اس کی ربوبیت اور رحمانیت اور اُس کی رحیمیت سے جس طرح ہم اس دنیا میں فائدہ حاصل کر رہے ہیں اسی طرح تہی دست ہونے کے باوجود اس کی صفت مالکیت یوم الدین کے پیارے جلوے حشر کے دن ہمیں دیکھنے نصیب ہو اور یہ اُسی کے فضل سے ہوسکتا ہے۔روزنامه الفضل ربوه ۵ /اگست ۱۹۷۴ء صفحه ۲ تا ۵)