خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 159
خطبات ناصر جلد دوم ۱۵۹ خطبہ جمعہ ۷ جون ۱۹۶۸ء زندہ خدا کی زندہ قدرتوں کا مشاہدہ کئے بغیر ہم توحید کامل پر قائم نہیں ہو سکتے خطبه جمعه فرموده ۷ /جون ۱۹۶۸ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد، تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔جب تک زندہ خدا کی زندہ طاقتیں انسان مشاہدہ نہیں کرتا شیطان اس کے دل سے نہیں نکلتا اور نہ سچی توحید اس کے دل میں داخل ہوتی ہے اور نہ یقینی طور پر وہ خدا کی ہستی کا قائل ہوسکتا ہے۔زندہ خدا کی زندہ طاقتوں کا مشاہدہ اس پاک وجود کی صفات کے جلوؤں کے ذریعہ سے ہوتا ہے جو صفات باری انسان سے تعلق رکھتی ہیں ان کا کامل علم اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہمیں دیا ہے ان صفات میں سے چارا مہات الصفات ہیں یعنی بنیادی صفات باری ہیں جن کا ذکر سورہ فاتحہ میں آتا ہے۔رَبِّ، رَحْمٰنُ ، رَحِيم ، اور مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ۔ان صفات میں سے رحمٰن اور رحیم کے متعلق اس وقت میں مختصراً کچھ کہنا چاہتا ہوں۔صفت رحمن کے جلوے ہمیں دو قسم کے (اصولی طور پر نظر آتے ہیں ایک وہ احکام و قوانین ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہماری پیدائش سے بھی پہلے اس عالمین میں اس لئے جاری ہوئے کہ انسان کو اس کے نتیجہ میں فائدہ پہنچے