خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 154 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 154

خطبات ناصر جلد دوم ۱۵۴ خطبہ جمعہ ۳۱ رمئی ۱۹۶۸ء اخلاق صحیحہ وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ماننے والے اور اس کے احکام کی رعایت رکھنے والے ظاہر کرتے ہیں اگر اللہ نہ ہو یا اگر اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہو یا اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے لئے آسمانی صحیفے اور ہدایتیں نازل نہ ہوں تو پھر اخلاق بے معنی ہو جاتے ہیں ان حالات میں انسان خود غرضی کا نام اخلاق رکھ دیتا ہے پس بنیادی طور پر ایک ہی فریضہ ہے جسے انسان نے ادا کرنا ہے اور ایک ہی حق ہے جس کو پورا کرنے کی اس نے کوشش کرنی ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ اپنے اللہ کا بندہ بن جائے اور اس کی حقیقی پرستش کرنے والا ہو۔قرآن کریم نے ہمیں بتایا ہے کہ حقیقی عبادت کے لئے اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کا فضل بھی ضروری ہیں ان کے بغیر انسان پرستش عبادت اور عبودیت کا حق ادا نہیں کر سکتا اور اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتایا ہے کہ جب انسان اللہ کے اس حق کو ادا کرتا ہے اپنے اس فریضہ کو بجالاتا ہے تو اس کے مقابلہ میں اسے انعام بھی دیا جاتا ہے اس انعام کے متعلق قرآن کریم نے تفصیل سے بیان کیا ہے اس کا تعلق اس دنیا سے بھی ہے اور اُخروی زندگی کے ساتھ بھی ہے۔جنت کے ایک انعام کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس طرح بھی کیا ہے کہ جو تم مانگو وہ تمہیں مل جائے گا یعنی تمہارا سارا وجود اس طرح خط مستقیم پر قائم ہو گا کہ تمہاری کوئی خواہش تمہاری کوئی مرضی تمہاری کوئی دعا اور مطالبہ ایسا نہیں ہو گا جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے خلاف ہو اور چونکہ تمہاری خواہش اور اللہ کی مرضی اکٹھے ہو جائیں گے اس لئے جو تم چاہو گے وہ تمہیں مل جایا کرے گا۔اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر چونکہ حقیقی پرستش نہیں کی جاسکتی اس لئے عبادت کا حق ادا کر نے کے لئے یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم اس کے حضور عاجزانہ دعاؤں سے جھکیں کہ اپنی کوشش سے ہم اس حق کو ادا نہیں کر سکتے اس لئے شروع میں ہی اللہ تعالیٰ نے سورہ فاتحہ میں اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَستَعین فرمایا اور ہمیں اس طرف متوجہ کیا کہ اگر تم صحیح طریق پر عبادت کرنا چاہتے ہو تو ایاک نستعین یہ دعا کرتے رہا کرو کہ اے خدا عبادت کی خواہش تو ہم رکھتے ہیں لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اپنی قوت اور طاقت سے ہم اس فرض کو پورا نہیں کر سکیں گے جب تک تیری مدد ہمارے شامل حال نہ ہو اس لئے تو ہم پر رحم کر اور ہماری مدد کو آ اور ہمیں تو فیق عطا کر کہ ہم تیری عبادت کو