خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 148
خطبات ناصر جلد دوم ۱۴۸ خطبه جمعه ۲۴ رمئی ۱۹۶۸ء کہتے ہو کہ ہم خدا پر ایمان لائے تو عقل کہتی ہے کہ اب تم کسی ایسی چیز کی طرف متوجہ نہ ہونا جو تمہارے رب کی پسندیدہ نہیں جس سے وہ ناراض ہو جاتا ہے پس پہلا تقاضا ایمان ہم سے یہ کرتا ہے کہ ہم ہر اس چیز سے بچیں جو ہمارے رب کو پسندیدہ اور پیاری نہیں ہے۔دوسری ذمہ داری ہم پر یہ عائد ہوتی ہے یا یوں کہو کہ دوسرا تقاضا ایمان ہم سے یہ کرتا ہے که وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ یعنی مقام خوف جس کا تقویٰ میں ذکر ہے صرف وہ کافی نہیں بلکہ اس کے بعد مقام محبت میں داخل ہونا ضروری ہے اور انسان کے دل کی یہ حالت ہونی چاہیے کہ وہ دلی تڑپ اور شوق اور رغبت کے ساتھ ان راہوں کو ڈھونڈے جو را ہیں کہ اس کے رب کی طرف لے جانے والی ہیں جب غربا کی ایک جماعت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس لئے حاضر ہوئی تھی کہ امیر کچھ ایسی نیکیاں کرتے ہیں جو غریب بجا نہیں لا سکتے اس لئے انہیں کچھ عبادتیں بتائی جائیں کہ وہ ان کے ذریعہ اس کمی کو پورا کر سکیں تو ان کے دل کی یہ خواہش وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الوسيلة ہی کا ایک نظارہ ہمارے سامنے پیش کر رہی ہے پس مومن کے دل کی یہ کیفیت ہونی چاہیے کہ ہر اس راہ کو تلاش کرے جو راہ اسے اس کے رب کی طرف پہنچانے والی ہو اور جس پر چل کر وہ اپنے رب کا قرب حاصل کرنے والا ہو۔واسل کے معنی اللہ کی طرف راغب کے ہیں یعنی جو شخص اللہ کی طرف راغب ہوا سے عربی زبان میں واسال کہتے ہیں اور مفردات راغب میں ہے کہ وسیلہ کی حقیقت یہ ہے کہ قرب کی راہوں کی معرفت اور عرفان شوق سے حاصل کیا جائے ( میں لفظی ترجمہ نہیں کر رہا بلکہ انہوں نے جو معنے کئے ہیں ان کا مفہوم اپنی زبان میں بیان کر رہا ہوں ) اسی طرح قُرب کی راہیں جو انسان پر کھلیں ان راہوں پر شوق سے چلا جائے اس کو انہوں نے عبادت کے نام سے پکارا ہے شریعتِ اسلامیہ کے جو احکام ہیں اور وقت اور حالات اور مقام اور ماحول کے مطابق جو بہترین ہدایتیں ہوں ان بہترین ہدایتوں پر دلی رغبت سے عمل کیا جائے تاکہ اللہ تعالیٰ انسان سے خوش ہو جائے۔پس ایک معنی وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ کے یہ ہیں کہ ان راہوں کی دلی رغبت اور شوق کے ساتھ تلاش جو خدا کی طرف لے جاتی اور انسان کو خدا تعالیٰ کا مقرب بنا دیتی ہیں پھر وسيلة کے