خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 146
خطبات ناصر جلد دوم ۱۴۶ خطبه جمعه ۲۴ رمئی ۱۹۶۸ء نہایت ہی بنیادی اہمیت کا مضمون بیان ہوا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کی کتب اور اس کے رسولوں پر ایمان لانے کی کوئی غرض ہوتی ہے انسان کسی مقصد کے پیش نظر دنیا سے منہ موڑتا اور دنیا والوں کی دشمنی خرید کر اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتا اور یہ اعلان کرتا ہے کہ میں اپنے رب کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس کو جیسا کہ وہ چاہتا ہے اپنی ذات میں کامل اور ا اپنی صفات میں کامل سمجھے گا اور اس بات پر یقین کرنے کا اعلان کرتا ہوں اسی طرح وہ یہ اعلان کرتا ہے کہ میں اس کے رسول اور اس کی کتاب پر ایمان لایا ہوں اور جو پہلے رسول گزرے ہیں اور جو کتب نازل ہوئی ہیں ان پر بھی ایمان لایا ہوں اور اِیمان بِاللهِ، اِيْمَان بِالرُّسُل اور ایمان بِالْكُتُبِ کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ انسان فلاح دارین حاصل کرے اور اس زندگی میں بھی وہ خدا میں ہو کر با آرام زندگی پائے اور اخروی زندگی ( جو مرنے کے بعد انسان کو یقیناً ملنے والی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان سے وعدہ کیا ہے ) میں بھی وہ فلاح کو حاصل کرے۔فلاح کے معنی انتہائی کامیابی کے ہیں اور امام راغب نے اپنی کتاب مفردات میں لکھا ہے کہ اُخروی زندگی میں جو فلاح اور ابدی حیات طیبہ ایک مومن کو ملے گی وہ چار خصوصیات کی حامل ہوگی۔چار باتیں اس میں پائی جائیں گی اور وہ یہ ہیں۔(۱) ایک ایسی ابدی زندگی جس پر کبھی فنانہ آئے۔(۲) ایک ایسی تو نگری جس کے ساتھ کوئی احتیاج باقی نہ رہے۔(۳) اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ایسی عزت کہ جس کے ساتھ شیطانی ذلت کے اندھیرے کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے۔(۴) وَعِلْمٌ بِلَا جَهْلٍ اور وہ حقیقی علم جو جہالت کی تمام ظلمتیں اور اس کے اندھیروں کو دور کر دیتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اس غرض سے ایمان لائے ہو کہ ایک ابدی حیات تمہیں حاصل ہو وہ حیات طیبہ تمہیں ملے جو ابدی فیوض کی حامل اور خدا تعالیٰ سے نئے سے نئے اور زیادہ سے زیادہ فیض اور برکتیں اور رحمتیں حاصل کرنے والی ہو اور یہ ایک ایسی زندگی ہے جس کا تصور بھی ہم یہاں اس دنیا میں نہیں کر سکتے۔