خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 139
خطبات ناصر جلد دوم ۱۳۹ خطبه جمعه ۱۰ رمئی ۱۹۶۸ء رحم بار بار ان کے لئے جوش میں آتا ہے اور ان کے لئے آرائش اور مسرتوں کے اور آرام کے سامان پیدا کرتا ہے۔دیہاتی جماعتوں میں سے بھی بہت سی ایسی جماعتیں ہیں جنہوں نے گذشتہ سال چندوں کی طرف توجہ دی اور بہت سی جماعتیں ایسی بھی جنہوں نے اپنے بجٹ سے زیادہ چندہ جمع کیا اور یہاں بھجوایا لیکن بہت سی جماعتیں ایسی بھی ہیں جو تربیت میں بہت پیچھے ہیں اللہ تعالیٰ کو اموال کی ضرورت نہیں اور اموال کے متعلق ہمیں کبھی فکر نہیں ہوا کیونکہ جو خدا کا کام ہے وہ تو ہو کر رہے گا ہمیں فکر تو ان کمزور بھائیوں کی ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ قربانیاں دے کر اپنے ان مخلص بھائیوں کے ساتھ شامل ہو جائیں اور ان سے پیچھے نہ رہیں جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہر قسم کی قربانیاں دے رہے ہیں ایسے لوگ دیہات میں بھی ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورہ تو بہ کی اس آیت میں فرمایا ہے یہ دیہاتی مخلص ، فدائی، قربانی دینے والے دوسروں کے لئے نمونہ ہیں جو کمزور ہیں انہیں دیکھنا چاہیے کہ قربانیاں دینے والوں کے اموال میں اللہ تعالیٰ کس طرح برکت ڈالتا ہے اور اپنی رحمتوں سے انہیں کس طرح نوازتا ہے اور اس نمونہ کو دیکھ کر ان کی غیرت کو جوش آنا چاہیے کہ ان سے پیچھے نہیں رہنا بلکہ ان سے آگے بڑھنا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو ان سے زیادہ حاصل کرنا ہے آپس میں زمین کی خرید و فروخت میں تم لوگ مقابلہ کرتے رہتے ہو اور بعض دفعہ نا جائز حد تک یہ مقابلہ پہنچ جاتا ہے تو وہ جائز مقابلے جن کی کوئی حدود نہیں ان میں آگے سے آگے بڑھنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی توفیق عطا کرے اور اللہ تعالیٰ ہمارے دیہاتیوں کو بھی اور شہر میں بسنے والوں کو بھی یہ توفیق عطا کرے کہ وہ اس کی راہ میں اس کے فرمان کے مطابق اپنا سب کچھ نفس بھی اور مال بھی قربان کرنے والے ہوں اور خدائے شکور اور خدائے غفور اور خدائے رحیم کے ہر آن جلوے دیکھنے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ نے مالی قربانیوں کے متعلق یہ بھی فرمایا ہے يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَكُمُ الخ (البقرة : ۲۵۵) کہ اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو اور جنہوں نے ہماری آواز کوسنا اور اس پر لبیک کہا ہے تم اس میں سے جو ہم نے تم کو دیا ہے اس دن کے آنے سے پہلے کہ جس میں