خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 135 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 135

خطبات ناصر جلد دوم ۱۳۵ خطبہ جمعہ ۱۰ رمئی ۱۹۶۸ء اللہ تعالیٰ کی راہ میں اموال خرچ کرنے والوں کو اس دُنیا میں بھی برکت دی جاتی ہے اور ابدی جنتیں بھی خطبه جمعه فرموده ۱۰ رمئی ۱۹۶۸ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور پرنور نے مندرجہ ذیل آیات يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَكُم مِّنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ يَوْمَ لَا بَيْعٌ فِيْهِ وَلَا خُلةٌ وَلَا شَفَاعَةُ وَالْكَفِرُونَ هُمُ الظَّلِمُونَ۔(البقرة : ۲۵۵) إِنْ تُقْرِضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا يُضْعِفُهُ لَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّهُ شَكُورٌ حَلِيمٌ - (التَّغابن : ۱۸) کی تلاوت فرمائیں اور پھر فرمایا :۔اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے اور ہمارے دل اس کی حمد سے لبریز ہیں کہ اس نے جماعت احمدیہ کو مالی قربانیوں کے میدان میں یہ توفیق عطا کی کہ وہ گذشتہ سال ( یعنی جو اس اپریل کے آخر میں ختم ہوا) اس سے پہلے سال کے مقابلہ میں لازمی چندوں میں تین لاکھ اسی ہزار سے زائد کی مزید قربانی اپنے رب کے حضور پیش کر سکے۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ اللہ تعالیٰ نے سورہ تغابن میں اس ذکر کے بعد کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو گے تو تمہاری اپنی جانوں کا ہی اس میں فائدہ ہے فرمایا ہے کہ اگر تم اپنے مالوں میں سے ایک اچھا حصہ کاٹ کر الگ کر دو تو وہ اسے تمہارے لئے بڑھائے گا۔یہ بڑھوتی اس دنیا میں دوشکل میں ظاہر ہوتی ہے اور اُخروی زندگی میں اپنے رنگ میں ظاہر