خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 105
خطبات ناصر جلد دوم ۱۰۵ خطبه جمعه ۱/۵ پریل ۱۹۶۸ء اے میرے رب ! تو جانتا ہے کہ ہم کتنے کمزور ہیں اور تیرے دین کی خاطر تیرے خلیفہ نے بعض مشوروں کے حصول کے لئے ہمیں یہاں بلایا ہے ہمیں یہ توفیق عطا کر کہ ہم کوئی ایسا مشورہ نہ دیں کہ جو تیرے دین کو نقصان پہنچانے والا اور ہمیں تیرے عتاب کا مورد بنانے والا ہو۔ہر وقت دعا کرتے ہوئے اللہ سے، اللہ کا نور حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ایک نورانی فضا پیدا کر کے خلیفہ وقت کے سامنے اپنے مشوروں کو رکھیں اور جب کوئی فیصلہ سنادیا جائے کسی مشورہ کے بعد تو اس پختہ ارادہ کے ساتھ وہاں سے اُٹھیں کہ ہم اپنی پوری طاقت اور پوری تو جہ سے اس فیصلہ کی تعمیل ان لوگوں سے کروائیں گے جن کا تعلق اس سے ہے۔اسی طرح جب خلیفہ وقت جماعت کو یا بعض افراد جماعت کو اس لئے بلائے ،صدر انجمن احمدیہ کے قواعد کے مطابق کہ اکٹھے ہو اور مشورہ دو کہ تمہاری نمائندگی کون کرے تو کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اس مجلس سے اس لئے اُٹھ کے چلا جائے کہ وہاں کوئی ایسی بات ہوئی ہو جو اس کی طبیعت پر گراں گزری ہو یہ اطاعت سے نکلنا ہے ہمیشہ اس سے بچنا چاہیے اور اگر اس قسم کا قصور ہو جائے تو بڑی استغفار کرنی چاہیے یہ کوئی دنیوی کھیل یا تماشہ یا دنیوی سیاست نہیں ہے ہم سب ساری دنیا کو ناراض کر کے اپنے رب کے قدموں پر جھک گئے ہیں اس لئے کہ وہ ہمارا مولیٰ ہم سے خوش ہو جائے اور اس کی رضا کو ہم پالیس اگر اس کے بعد بھی ہم اس کی طرف پیٹھ پھیر لیں دنیا کی طرف اپنے منہ کر لیں تو ہم سے زیادہ کوئی بد بخت نہیں ہو سکتا۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہمیں اپنی رضا کی جنت ہی میں رکھے اور شیطانی کوئی وار ہم پر کارگر ثابت نہ ہو۔از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )