خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 103
خطبات ناصر جلد دوم ۱۰۳ خطبه جمعه ۵ را پریل ۱۹۶۸ء تمہارے کسی مشورہ کو سننے کے لئے تیار نہیں ہوں۔کل ( تو نہیں مجھے کہنا چاہیے لیکن گزشتہ کل جو گزر چکی تھی ) جب اسلام ۱۸ ویں صدی میں اپنے تنزل کی انتہائی گہرائیوں میں پڑا ہوا تھا اس وقت جب شاید نانوے فی صدی یا اس سے بھی زائد مسلمان تارک الصلوۃ تھے اگر رائے عامہ لی جاتی تو بھاری اکثریت یہ کہتی کہ زمانہ بدل گیا اب اس قسم کی نمازیں پڑھنے کی ضرورت نہیں چلو نمازیں معاف۔تو اس قسم کی جمہوریت جو ہے اسلام اس کا قائل نہیں اور جب تک خلفاء، نبی کے بعد اس کی نیابت میں اسلام کے کاموں کے ذمہ دار ٹھہرائے جاتے ہیں وہ ان باتوں کے متعلق کسی سے بھی مشورہ نہیں لیا کرتے ہاں جب کوئی الجھن پیدا ہو جائے تو وہ اپنے رب کے حضور جھکتے اور اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور وہ ہمارا پیارا رب ایسے اوقات میں راہنمائی کرتا ہے اور ہدایت کے رستوں کی نشان دہی کرتا ہے۔تو فی الامر کا فیصلہ کرنا کہ وہ کون سے اہم امور ہیں کہ جن کے متعلق مشورہ لینا ہے یہ بھی خلیفہ وقت کا کام ہے اس واسطے کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہم جو کہتے ہیں ان امور پر مشاورت میں بات ہونی چاہیے مشاورت کے سامنے وہی امر جائے گا جس کی اجازت خلیفہ وقت دے گا اور جس کے متعلق وہ سمجھے گا کہ مجھے جماعت کے اہل الرائے احباب سے مشورہ لینا چاہیے۔پھر فرما یا فَإِذَا عَزَمْتَ عزم کرنا اور فیصلے پر پہنچا یہ بھی خلیفہ وقت کا کام ہے جماعت کا کام نہیں، مجلس شوریٰ کا کام نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تو عزم کر لے فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ پھر مسلمانوں کا خیال بھی تو رکھنا ہے ان سے نرمی اور پیار کا سلوک بھی کرنا ہے اور ان کی تربیت بھی کرنی ہے لیکن یہ نہیں دیکھنا کہ نانوے فی صدی مشورہ دینے والوں کی اکثریت اس میرے فیصلے کے خلاف ہے کبھی کہیں کوئی خرابی پیدا نہ ہو جائے جب دیانتداری سے تم کسی فیصلہ پر پہنچو تو خدا کے سوا کسی اور پر نگاہ نہیں رکھنی فَتَوَكَّلْ عَلَی اللہ کیونکہ اسی میں کامیابی کا راز ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:۔د مجلس شوری کوئی فیصلہ نہیں کرتی مجلس شوری خلیفہ وقت کے مطالبہ پر اپنا مشورہ پیش کرتی ہے پس مجلس مشورہ نہیں دیتی بلکہ قرآن کریم کے اس حکم کے مطابق کہ وَشَاوِرُهُمْ فِي الْأَمْرِ