خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 101 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 101

خطبات ناصر جلد دوم 1+1 خطبه جمعه ۵ را پریل ۱۹۶۸ء نہیں کی بلکہ خلیفہ وقت کا چونکہ وہ نیابت کا مقام ہوتا ہے) جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہ دیا ووو تھا کہ هُوَ اذن تو خلیفہ وقت کو بھی بعض لوگ کہتے رہتے ہیں کہ هُوَ اذن۔تو اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا کہ ہے تو یہ کان آئیں گی اس کے پاس خبریں ہر مخلص ہر مومن جب سمجھے گا کہ کوئی ضروری بات نبی کو یا اس کی نیابت میں جو خلیفہ ہو خلیفہ وقت کو پہنچانی چاہیے وہ اس کو ضرور پہنچائے گا لیکن خلیفہ وقت ان تمام باتوں کو سننے کے بعد جس نتیجہ پر پہنچے گا جو فیصلہ کرے گا وہ تمہاری بھلائی کا ہوگا تو جو علم اس قسم کے افراد کے متعلق خلیفہ وقت کو ہوتا ہے وہ بعض دفعہ مقامی جماعت کو بھی نہیں ہوتا۔ایک دفعہ ایک جماعت نے بہت بھاری اکثریت میں ایک شخص کو اپنا امیر منتخب کر کے یہاں بھیج دیا جب حضرت صاحب کی خدمت میں اطلاع دی تو آپ نے فرمایا کہ یہ مشورہ یہ انتخاب جماعت کا نامنظور ہے کیونکہ یہ شخص جو ہے اس کے اندر ایمانی کمزوری پائی جاتی ہے اس قابل نہیں کہ اس کو امیر بنایا جائے چند ماہ کے بعدہی وہ شخص بہائی بن گیا اور جماعت کو پتہ ہی نہیں تھا کہ اس کے اندرکون سا کیڑا لگ چکا ہے لیکن حضرت خلیفہ امسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پتہ تھا تو جو علم خلیفہ وقت کو حاصل ہوتا ہے یا ہو سکتا ہے وہ دوسروں کو حاصل نہیں ہوسکتا بعض دفعہ پوری جماعت کو بھی نہیں ہوتا خلیفہ وقت کہتا ہے کہ میں اس کے امیر بنائے جانے کی منظوری نہیں دیتا یا میں اسے مجلس مشاورت کا نمائندہ بننے کی اجازت نہیں دیتا کئی لوگ ہوتے ہیں ان کو ویسے بھی شوق ہوتا ہے آگے بڑھنے کا اور اپنے شوق میں وہ بہت ہی معیوب اور نا مناسب حرکتیں بھی کر لیتے ہیں اگر مجلس ہے یا ویسے ہی نام آ جاتا ہے امیر بھی چیک کرنا پڑتا ہے کہ جس شخص نے یہ لکھا ہے کہ مجھے فلاں جماعت نے مجلس مشاورت کا نمائندہ بنایا ہے اس کے متعلق یہ تسلی کرنی پڑتی ہے کہ وہاں کی جماعت کا اجلاس بھی ہوا ؟ اور وہاں یہ معاملہ ان کے سامنے رکھا بھی گیا یا نہیں اور ایک آدھ آدمی ایسا نکل آتا ہے کہ جو اپنے جوش میں یہ سمجھتا ہے کہ جب میں نے ارادہ کر لیا شوری میں جانے کا تو جماعت میرے ساتھ ہی ہے تو قواعد کی پروا نہیں کرتا اور خود ہی نمائندہ بن کے آجاتا ہے ایسے لوگوں کے متعلق پوری تسلی کی جاتی ہے لیکن بہر حال انسان غلطی بھی کرتا ہے لیکن جب پتہ لگ جائے تو نمائندگی سے ہٹا دیا جاتا ہے۔نمائندگی منظور نہیں کی جاتی تو ھمہ کا فیصلہ کرنا یہ بھی خلیفہ وقت کا کام ہے