خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 1038
خطبات ناصر جلد دوم ۱۰۳۸ خطبہ جمعہ ۲۶ / دسمبر ۱۹۶۹ء اس لئے جو شخص آج اسلام میں یاسلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہوا ہے اور اس کی وہ تربیت نہیں جو میری ہے اس پر میں کوئی فضیلت رکھتا ہوں اور میرا یہ حق ہے کہ میں اس کی تحقیر کروں۔یہ شیطانی وسوسہ ہے میرے منہ سے جو حقیقت تھی وہ پنکی تھی لیکن وسوسہ اندازی کے نتیجہ میں دل میں جو خیال پیدا ہوتا ہے اس سے اللہ کے فضل سے“ کے الفاظ کاٹ دو بہر حال وہ سمجھتا ہے کہ میں شاید اپنے زور اور اپنی طاقت سے اس مقام تک پہنچا ہوں اور دس پندرہ سالہ تربیت کے نتیجہ میں پہنچا ہوں اور چونکہ میں اپنے زور اور اپنی طاقت اور اپنے مجاہدہ اور اپنی دعاؤں اور اپنی قربانیوں کے نتیجہ میں جن میں خدا کے فضل کا دخل نہیں اس مقام تک پہنچا ہوں اس لئے مجھے یہ حق پہنچتا ہے کہ جو لوگ کل یا پرسوں یا ترسوں یا دس دن پہلے یا دو ماہ پہلے یا سال پہلے سلسلہ عالیہ احمدیہ میں یا اسلام میں داخل ہوتے ہیں ان کو حقارت کی نگاہ سے دیکھوں اور ان پر سختی کروں اور طعن و تشنیع کروں حالانکہ جس وقت وہ اسلام میں داخل ہوتے ہیں اس وقت سب سے بڑا فضل جو اللہ تعالیٰ نے ان پر کیا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو اس بات کے لئے تیار کر دیتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تربیت گاہ سے تربیت حاصل کریں کیونکہ باہر سے تو وہ تربیت حاصل کر کے آئے نہیں اور تربیت انہوں نے آہستہ آہستہ حاصل کرنی ہے۔بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دل میں ان لوگوں کا بڑا خیال تھا جو اس وقت کچھ عرصہ پہلے سلسلہ میں داخل ہوئے یا آپ کو پتہ تھا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو بشارت دی تھی کہ سلسلہ عالیہ احمدیہ کی ترقیات کا زمانہ اس وقت تک ممتد ہے کہ ساری دنیا کے انسان باستثنا چند کے سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہو جائیں گے اور ان بشارتوں کی وجہ سے آپ کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ کچھ لوگوں نے پانچ سال یا دس سال تک میری تربیت حاصل کی ہے اور اللہ تعالیٰ نے فضل کیا کہ مجھے ان کی تربیت کرنے کی توفیق ملی اور ان کو میری تربیت قبول کرنے کی توفیق دی اور اپنے قرب کی راہیں ان پر کھولیں اور انہیں اپنے قریب کر لیا اور اپنی درگاہ میں انہیں معز ز کر دیا اور اپنی رضا کی جنتوں میں داخل کر لیا۔جو اسلام میں یا سلسلہ عالیہ احمدیہ میں کل داخل ہوئے یا جو کل داخل ہوں گے ان کی تو ابھی یہ حالت ہوگی ممکن ہے کہ شیطان اس راہ سے میری جماعت میں داخل ہو اور ان کے اندر