خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 1037
خطبات ناصر جلد دوم ۱۰۳۷ خطبہ جمعہ ۲۶ دسمبر ۱۹۶۹ء نگاہ میں کوئی عزت اور عظمت نہیں جس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ۱۳۰۰ سال پہلے اپنا سلام بھجوایا تھا ۱۳۰۰ سال پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں ایک پیارا اپنے اس روحانی فرزند کے لئے جوش مار رہا تھا اور اس جوش کے نتیجہ میں آپ نے کہا کہ جب وہ آئے تو اپنی طرف سے تم نے اسے سلام پہنچانا ہی ہوگا۔میری طرف سے بھی اسے سلام پہنچادینا۔تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ میں اپنی اولا د (روحانی) میں سے جو وجود اس قدر عزت اور احترام رکھتا ہے کہ آپ اسے سلام بھیجتے ہیں کیا اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں وہ صاحب عزت و احترام نہیں وہ یقیناً صاحب عظمت واحترام ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے جو مختلف نشان دیئے اور علامات دیں اور آپ نے جو پیشگوئیاں فرمائیں اور جو وقت کی ضرورت کے مطابق اسلام کے تقاضے آپ نے بتائے وہ سب شعائر اللہ میں شامل ہیں کیونکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے شعائر اللہ کے معنی ہیں وہ علامات جو یہ بتاتی ہیں کہ ان کی عزت کر کے اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہوتی اور ان کی بے حرمتی کر کے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے اپنی مبشر اولاد کے متعلق بھی ایک فقرہ میں یہ بتایا ہے کہ یہ شعائر اللہ ہیں اور ان کی عزت کرنا ہر احمدی کے لئے ضروری ہے جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو سلام بھجوایا تھا اسی سے ملتا جلتا یہ فقرہ ہے آپ فرماتے ہیں کہ :۔یہ لڑ کے چونکہ اللہ تعالیٰ کا ایک نشان ہیں اس لئے میں اللہ تعالیٰ کے ان وو نشانوں کی قدر کرنی فرض سمجھتا ہوں۔اب جس بات کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرض سمجھتے ہیں آپ کے جو متبع ، پیرو اور آپ کی بیعت میں شامل ہیں وہ بات ان پر بھی فرض ہے جو اس سے انکار کرتا ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اتباع سے انکار کر رہا ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جماعت میں داخل ہونے والوں میں سے کمزوروں کی عزت اور احترام کو قائم کیا ہے بعض دفعہ شیطان یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ چونکہ دس سال یا پندرہ سال یا میں سال کی تربیت کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں ایک مقام پر پہنچ گیا ہوں