خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 1030
خطبات ناصر جلد دوم ۱۰۳۰ خطبہ جمعہ ۲۶ / دسمبر ۱۹۶۹ء نے ہمارے اس جلسہ ( جلسہ سالانہ ) کو بھی عزت اور حرمت والا زمانہ قرار دیا ہے چنانچہ یہ فرمایا ہے کہ چونکہ یہ سلسلہ آسمانی ہے اور حکم ربانی ، اس لئے جلسہ میں ضرور تشریف لائیں اور جو اللہ سفر کیا جاتا ہے وہ عند اللہ ایک قسم عبادت کی ہوتا ہے۔پس خالی شہر حرام کی حرمت اللہ تعالیٰ نے قائم نہیں کی بلکہ اور زمانوں کی حرمت کو بھی اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے مثلاً اس سے بہت زیادہ حرمت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی قائم کی ہے آپ کی تمام ملکی اور مدنی زندگی جو تھی وہ سارا زمانہ عزت اور احترام والا زمانہ تھا۔جب آسمانوں سے فرشتوں کا نزول ہوتا تھا اور وہ بڑی کثرت کے ساتھ انسانوں میں اللہ تعالیٰ کی برکتیں بانٹ رہے ہوتے تھے۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں بعض مکانوں کو عزت دے دیا کرتا ہوں۔اب ان مکانوں کی اینٹوں اور گارا یا سیمنٹ اور شہتیر یاری انفورس کنکریٹ کی جو چھت ہے اس کو تو کوئی عزت نہیں دیتا بلکہ انسان کے سامنے یہ بات ہونی چاہیے کہ خدا تعالیٰ نے اس مکان کو عزت والا مقام عطا فرمایا ہے اور ہمیں اس کی عزت کرنی پڑے گی۔اگر تم یہ کہو کہ جس طرح کے مکان لاہور یا راولپنڈی یا پشاور یا کراچی یا لنڈن یا واشنگٹن کے ہیں اسی طرح کے مکان مکہ کے مکان ہیں اسی طرح کے مکان مدینہ کے مکان ہیں یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان ہیں تو یہ غلط ہو گا کیونکہ بے شک ان سب مکانوں پر اینٹ اور گارا یا دوسرا میٹریل (Material) جو لگا ہے وہ ایک جیسا ہے لیکن ایک وہ گھر ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے عزت اور عظمت عطا نہیں کی اور ایک وہ مکان ہے جس کو اللہ تعالیٰ عزت اور احترام دیتا ہے اور جسے اللہ تعالیٰ عزت اور احترام دے تمہیں اس کی عزت کرنی پڑے گی یہاں اس آیت میں چونکہ بیت الحرام کی عزت کا ذکر ہے اس لئے یہ حرمت مکان سے تعلق رکھنے والی ہے پھر انسان کی حرمت ہے اور پھر انسانوں میں سے مسلمان کی حرمت ہے اس حرمت کو بھی اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے چنانچہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ایسے انسانوں کی حرمت کو بھی قائم کیا گیا ہے جو اپنے رب کے فضل اور اس کی رضا کی تلاش میں ہیں اب اللہ تعالیٰ نے یہ عام اصول وضع کر کے ہمارے سامنے رکھ دیا ہے اور ہمیں یہ کہا ہے کہ میرے بندوں میں سے ہر وہ بندہ جو میرے فضل کی تلاش میں ہے وہ میرے نزدیک معزز اور محترم ہے۔