خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 1029
خطبات ناصر جلد دوم ۱۰۲۹ خطبہ جمعہ ۲۶ دسمبر ۱۹۶۹ء جائیں ہر سال لاکھوں اونٹ گائیں بھیڑیں اور بکریاں ہیں کہ جن کے متعلق اسلام میں اللہ تعالیٰ نے یہ کہا ہے کہ میں ان کو عزت دیتا ہوں اور تمہیں بھی ان کی عزت کرنی پڑے گی۔شروع میں جو آیت میں نے پڑھی ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے اس قسم کی مختلف عرب توں کو قائم کر کے یہ سبق دہرایا ہے اور اس نے یہ سبق بار بار دہرایا ہے اور ہمیں اس پر پختہ طور پر قائم رہنے کی طرف توجہ دلائی ہے چنانچہ فرمایا ہے لا تُحِلُّوا شَعَابِرَ اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کے نشانوں کی بے حرمتی نہیں کرنی۔شعائر کے معنی ہیں نشان اور علامات۔اور نشانات اور علامات کے یہاں یہ معنی ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے نشانات اور علامات ہیں یہ اس کی فرماں برداری کے نشانات اور علامات ہیں اس کے علاوہ تمہیں اور کچھ نظر نہیں آئے گا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں یہ علامت اور نشان قائم کر دیتا ہوں تم میرے حکم کی اطاعت کرو۔یہ علامت اور نشان ایک ظاہری چیز ہوتی ہے جس کے اندر نہ تو عقل ہوتی ہے اور نہ شریعت اور انسانی فطرت اس کی کوئی بزرگی تسلیم کرنے کے لئے تیار ہوتی ہے۔خود اسلام کی یہ تعلیم ہے کہ میں نے انسان کے علاوہ ہر مخلوق کو انسان کی خدمت پر لگایا ہوا ہے اور جن چیزوں کو انسان کی خدمت پر لگائے جانے کا قرآن کریم بار بار اعلان کر رہا ہے انہی میں سے اللہ تعالیٰ بعض کو لے لیتا ہے اور کہتا ہے تم نے ان کی عزت کرنی ہے تم نے ان کا احترام کرنا ہے، تم نے ان کی بے حرمتی نہیں کرنی کیونکہ یہ نشان ہیں اگر کوئی سوال کرے کہ یہ کس چیز کا نشان ہیں تو ہم کہیں گے یہ اطاعت باری کا نشان ہیں۔اس آیت میں حرمت کی بہت سی اقسام کو بیان کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں جب چاہوں، جس وقت چاہوں اور جس زمانہ میں چاہوں کسی چیز کی حرمت اور اس کی عزت کو قائم کر دیتا ہوں مثلاً اس نے فرمایا میں نے شہر حرام کو حرمت اور عزت والا مہینہ بنایا ہے میں نے اسے شعائر اللہ سے بنایا ہے، اسے عظمت اور احترام والا مہینہ بنایا ہے۔اب اس عزت اور حرمت کا تعلق زمانہ سے ہے اور اس میں ہمیں یہ سبق دیا گیا ہے کہ بعض زمانے اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت معزز ہو جاتے ہیں اور جو ان زمانوں مہینوں یا دنوں کی عزت اور احترام سے غافل ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کے نیچے ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا پیار نہیں حاصل کرتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام