خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 1028
خطبات ناصر جلد دوم ۱۰۲۸ خطبہ جمعہ ۲۶ دسمبر ۱۹۶۹ء اس کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں اصولی طور پر دو ہدایتیں دی ہیں اور دو باتوں پر ہی اسلام نے زور دیا ہے اور وہی اسلام کی بنیاد ہیں۔ایک تو اسلام میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کو جیسا کہ چاہیے ادا کرو دوسرے اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حقوق کو جیسا کہ حکم ہے ادا کرو۔حق تو سب اللہ تعالیٰ ہی کے ہیں وہ خالق ہے مخلوق کا اس پر کیا حق ؟ اور وہ مالک ہے۔مملوک کا اس پر کیا حق ؟ لیکن یہ بھی اس کی بے پایاں رحمت اور احسان عظیم ہے کہ اس نے اپنے فضل سے اپنے بندوں کے حقوق قائم کئے اور حکم دیا کہ میں جن حقوق کو قائم کرتا ہوں ان حقوق کو قائم کرنا اور ان کی حفاظت کرنا تمہارے لئے ضروری ہے۔حقیقت یہ ہے کہ تمام حقوق العباد علامات ہیں حقوق اللہ کی ادائیگی کی کیونکہ حقوق العباد کی ادائیگی یہ بتاتی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کا فرماں بردار اور اس کی اطاعت کرنے والا ہے۔جب ہم کسی شخص کا، کسی جاندار کا یا کسی بے جان مخلوق کا حق ادا کرتے ہیں تو اس لئے نہیں کہ اس مخلوق کے اپنی ذات میں کوئی حقوق تھے جنہیں ہم ادا کر رہے ہیں ہم ان حقوق کو اس لئے حقوق کہتے اور حقوق تسلیم کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں نے ان حقوق کو قائم کیا ہے۔اس بات کی وضاحت کے لئے اللہ تعالیٰ نے پہلے زمانوں میں بھی خال خال ایسا کیا اور اُس وقت کے انسان کو یہ سمجھایا کہ حقوق العباد کی ادائیگی اس بنیاد پر ہی ہوسکتی ہے کہ اللہ کی اطاعت کی جائے اور اس طرح سمجھایا کہ عقل کوئی اور دلیل یا کوئی اور مصلحت تجویز نہیں کر سکتی تھی مثلاً اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کے متعلق آپ کی قوم کو فرمایا کہ اسے کچھ نہیں کہنا، اب وہ اونٹنی ، اونٹوں میں سے ایک فرد تھی اُس کی یہ عزت اس کے اونٹنی ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے پیچھے یہ سبق تھا کہ تم میری اطاعت کرو اگر میں کہوں کہ اس اونٹ کی عزت کرنی ہے تو اگر تم میرے فرماں بردار ہو تو تمہیں اس اونٹ کی عزت کرنی پڑے گی۔اس سبق کو بار بار یاد کرانے کے لئے اور اس لئے کہ ہم اطاعت باری پر مضبوطی سے قائم ہو