خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 1026 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 1026

خطبات ناصر جلد دوم خطبہ جمعہ ۱۲؍ دسمبر ۱۹۶۹ء رکھا جائے اور اسے بدصورت ہی بنایا جائے اور اس میں کوئی اور فائدہ اس کے مدنظر ہوتا یعنی فائدہ تو ہوتا لیکن وہ کسی اور رنگ میں ہوتا اس شکل میں نہ ہوتا تو اس رنگ کا احسان ہمیں نہ گھوڑے میں نظر آتا نہ گھوڑے کے چارہ میں کوئی ایسا احسان نظر آتا جو گھوڑے پر ہورہا ہے غرض ہر چیز میں اور جہاں بھی اللہ تعالیٰ کا حسن نظر آتا ہے وہاں اللہ تعالیٰ کے احسان کے جلوے بھی ہمیں نظر آتے ہیں اور وہ جلوے اللہ کے ہیں۔ان چیزوں کے جلوے نہیں ہیں۔پس چونکہ حسن کا منبع اور سر چشمہ اور حقیقی مالک اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور چونکہ احسان کا حقیقی سر چشمہ اور احسان کی صفات کا حقیقی حقدار اور اپنے اندر ان صفات کو جمع کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی کا وجود ہے اس لئے ہم یہ کہنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ سب جگہ جہاں حسن نظر آتا ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کا حسن ہے جو ہمیں نظر آتا ہے اور ہر جگہ جہاں ہمیں احسان کے جلوے نظر آتے ہیں وہاں اللہ تعالیٰ کی احسانی صفات کے ہی جلوے ہیں اور کوئی چیز نہیں۔جب ہم اس حقیقت کو سمجھتے ہیں تو بے اختیار نہ صرف ہماری زبان سے بلکہ ہمارے وجود کے ذرہ ذرہ سے یہ نکلتا ہے الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ - اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الْحَمْدُ لِلَّهِ - از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )