خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 1019
خطبات ناصر جلد دوم 1+19 خطبہ جمعہ ۵/ دسمبر ۱۹۶۹ء اس کا فہم ناقص ہے اس کی کوئی صفت یا اس کی کوئی طاقت اپنے اندر کمال نہیں رکھتی۔انسانی خوبی یا صفت یا طاقت تو ایک نسبتی چیز ہے۔اس واسطے اپنی تدابیر پر بھروسہ کر کے انسان کا نفس خوش نہیں ہو سکتا اس کو اطمینان نہیں مل سکتا۔اس کو نفس مطمئنہ حاصل نہیں ہو سکتا اس نفس مطمئنہ کے حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے لئے ہر سامان پیدا کرتا ہے اور اس سے یہ کہتا ہے کہ میری راہ میں تیری پچھلی قربانیاں یا تیرے پچھلے اعمال جنہیں تو میری محبت اور پیار کا مظاہرہ کرتے ہوئے بجالایا ہے میں انہیں قبول کرتا ہوں اور میں ان کے مناسب حال تجھے جزا بھی دوں گا۔پھر اس کے ساتھ ہی ایک دوسری بشارت یہ ملتی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے میرے بندے! میں تو تیرے لئے یہ بھی چاہتا ہوں کہ تو آئندہ بھی اپنی نیکیوں پر قائم رہے لیکن چونکہ میں نے تجھے اختیار دیا ہے اس لئے تم پر جبر روا نہیں رکھا جائے گا۔میں نے تجھے تیرے نیک اعمال کی بہترین جزا کی بشارت دے کر اور اپنے حسن و احسان کے جلوے دکھا کر تیرے لئے اس بات کو آسان اور سہل کر دیا ہے کہ تو میری راہ میں مزید قربانیاں دیتا چلا جائے مگر شیطان تیرے ساتھ لگا ہوا ہے اس واسطے اس سے بچتے رہنا اور میں نے تجھے اس سے بچنے کی قوت دی ہے لیکن تجھ سے اختیار کو چھینا نہیں یعنی جب اللہ تعالیٰ کسی انسان کو کسی نیکی کی قوت اور توفیق اور طاقت عطا کرتا ہے تو اس کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ اس کو جو اختیار دیا گیا تھا خواہ وہ نیکی کرے یا بدی کرے یہ اختیار اس سے چھین لیا گیا اور وہ ایک فرشتے کی طرح بن گیا حالانکہ انسان تو کبھی فرشتہ نہیں بنتا۔انسان یا تو فرشتے سے اوپر درجہ رکھتا ہے یا فرشتے سے کم تر ہوتا ہے بہر حال انسان فرشتہ نہیں بن سکتا۔پس اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کو ایک تو یہ بشارت دی کہ میں نے تیری نیکیاں قبول کیں اور دوسرے اللہ تعالیٰ نے اس کو پہلے سے زیادہ یہ قوت دی (اگر چہ پہلے بھی اسی کی توفیق اور طاقت سے نیکیاں بجالانے کی سعادت نصیب ہوتی رہی مگر اس لیلَةُ الْقَدْرِ کے میسر آ جانے پر پہلے سے زیادہ نیکیوں کے کام کرنے کی قوت دی گئی لیکن اختیار پھر بھی بندے کے ہاتھ میں رہا۔پھر ایسا شخص اپنی طرف سے کوشش کرتا ہے دعائیں کرنے میں لگا رہتا ہے عبادات بجالاتا ہے۔مخلوق خدا کے ساتھ ہمدردی اور غم خواری سے پیش آتا ہے۔ان کے دکھوں کو خود جھیلتا ہے اور ان کے غم میں