خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 90 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 90

خطبات ناصر جلد دوم ۹۰ خطبه جمعه ۲۹ مارچ ۱۹۶۸ء موڑ لے اور شیطانی راہوں کو اختیار کرے لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک وقت میں میرے بعض بندوں پر ایسا بھی آتا ہے کہ ان کے دل میں یہ احساس شدت اختیار کرتا ہے کہ انہوں نے فطرت کی آواز کو نہ سنا اور اپنی فطرت صحیحہ کے تقاضوں کو پورا نہ کیا اور جو ہدایت ان کی ربوبیت کے لئے آسمانوں سے نازل کی گئی تھی اس پر کان نہ دھرے نہ اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالا اور اس وقت ایسا انسان اپنے گناہوں کو دیکھ کر اپنے دل میں مایوسی کے جذبات پاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ شاید خدا کی رحمت کے دروازے میرے پر بند ہو گئے ہیں تو ان اوقات میں ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللهِ یہاں اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ بتایا ہے کہ میری صفات میں سے ایک صفت غفور ہونے کی اور ایک رحیم ہونے کی ہے، اس لئے میں تمہیں کہتا ہوں کہ میری رحمت جو ہر دوسری چیز کو اپنے گھیرے اور اپنی وسعتوں میں لئے ہوئے ہے اس سے مایوس نہ ہونا ، کیونکہ میں غفور ہونے کی وجہ سے تمہارے گناہوں کو بخش سکتا ہوں اور بخشوں گا اور رحیم ہونے کے لحاظ سے تم پر رجوع برحمت ہوں گا لیکن میری رحمت کے حصول کے لئے جو طریق تمہیں اختیار کرنے چاہئیں وہ میں تمہیں بتا دیتا ہوں اور وہ یہ کہ وانيُبُوا إِلَى رَبَّكُمْ وَأَسْلِمُوا لَهُ مِنْ قَبْلِ ان يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ (الزمر : ۵۵) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک وقت ایسا آتا ہے ایک گنہگار بندے پر کہ خدا کی مدد اور نصرت سے وہ محروم ہو چکا ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کی مدد سے نجات نہیں دلا سکتی وہ وقت وہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی قہری گرفت میں وہ آجائے جب اللہ تعالیٰ کے غضب کے نیچے وہ ہو اور اللہ تعالیٰ کے قہر کا وہ مورد بن رہا ہو تو واضح ہے کہ کوئی دوسری ہستی اس کی مدد اور نصرت کو پہنچ نہیں سکتی اور جو اس کی مدد کر سکتا تھا اس کی مدد سے اس نے اپنے ہی اعمال کے نتیجہ میں خود کو محروم کر دیا چونکہ انسانی زندگی یا ایک گنہگار کے لئے مرتے وقت یہ وقت ایسا آتا ہے کہ کسی طرف سے بھی اسے مدد نہیں پہنچ سکتی نہ پہنچتی ہے غیر اللہ سے مدد پہنچ نہیں سکتی اللہ کی طرف سے مدد پہنچتی نہیں۔تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ چونکہ عذاب کے وقت تو بہ قبول نہیں ہوتی اور رحمت کے سب دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اس لئے میں اپنی گرفت میں تاخیر ڈالتا ہوں تم گناہ کرتے ہو