خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 1006
خطبات ناصر جلد دوم 10+9 خطبه جمعه ۲۸ نومبر ۱۹۶۹ء ہونا چاہیے ہمارے اندر بھی یہ ہمت ہونی چاہیے کہ ہم کہیں کہ جہاں تک نیکیوں کے حصول کا سوال ہے ہم اہل ربوہ باہر والوں کو آگے نہیں بڑھنے دیں گے۔ہمارے لئے مواقع بھی زیادہ ہیں ہم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی زیادہ باتیں سنتے ہیں اور بعض لوگ اس وجہ سے کہ زیادہ کثرت سے نیکی کی باتیں ان کے کانوں میں پڑتی ہیں سست بھی ہو جاتے ہیں اللہ تعالیٰ رحم کرے اور اس قسم کی کمزوریوں سے ربوہ کے مکینوں کو محفوظ رکھے لیکن بہر حال انسانی فطرت کا یہ بھی ایک حصہ ہے کہ جو چیز بار بار سامنے آتی ہے اس کی وقعت اور عظمت باقی نہیں رہتی۔اللہ تعالیٰ ہی محفوظ رکھے ہمیں اسی کی پناہ تلاش کرنی چاہیے۔خیرات میں نیکیوں میں اللہ تعالیٰ کی جستجو کی تلاش میں اور اعمال صالحہ میں ہمیں یہی حکم ہے کہ ہم دوسروں سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں باہر سے آنے والے ہم سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں اہل ربوہ اگر اپنے لئے خیر چاہتے ہیں تو ان کا فرض ہے اور ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ باہر سے آنے والوں سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں ایک تو جیسا کہ میں نے کہا ہے اس طرح کہ باہر سے آنے والوں کو اپنے مکانوں میں رکھیں خود تنگی برداشت کریں اور ان کے آرام کے سامان پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ہم نے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دار میں جب سے آنکھیں کھولیں یہ دیکھا کہ حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا مہمانوں کا بے انتہا خیال رکھنے والی تھیں اور ہمیں بھی یہ عادت تھی کہ ہم مہمانوں کا خیال رکھتے تھے بچپن کے اپنے خیالات ہوتے ہیں جلسہ کی خوشیوں میں سے ایک خوشی یہ تھی کہ ہم کسیر پر ( یہاں پر الی ہے ) پر سوئیں گے۔ہم رات کے بارہ بجے تک کام کریں گے یعنی یہ خوشی کے سامان محسوس ہوتے تھے تنگی اور حرج کے نہیں۔آئندہ نسل بھی ایسی ہونی چاہیے کیونکہ ان پر تو اور زیادہ ذمہ داری کے کام پڑنے ہیں کیونکہ جلسہ سالانہ بڑھ رہا ہے۔قادیان میں پندرہ ہزار میں ہزار یا پچیس ہزار مہمانوں کے لئے ہم انتظام کرتے تھے اور یہاں اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک لاکھ کے قریب مہمانوں کے لئے انتظام کرنا پڑتا ہے لیکن بہت سارے مہمانوں کا تو گھروں میں انتظام ہو جاتا ہے اس لئے مہمانوں کی مجموعی نسبت کے لحاظ سے ہمارے لنگروں پر اب اتنا دباؤ نہیں پڑتا جتنا