خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 89
خطبات ناصر جلد دوم ۸۹ خطبه جمعه ۲۹ مارچ ۱۹۶۸ء خدا تعالیٰ کی گرفت ہمیشہ اچانک ہوا کرتی ہے ہرلمحہ ڈر کے اور خوف کے ساتھ زندگی گزارنے کی ضرورت ہے خطبه جمعه فرموده ۲۹ / مارچ ۱۹۶۸ء تشہد،تعوذ ،سورۃ فاتحہ اور آیات قُلْ يُعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ ۖ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ - وَ انِيبُوا إِلى رَبَّكُمْ وَ أَسْلِمُوا لَهُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُونَ - وَاتَّبِعُوا اَحْسَنَ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِّن رَّبِّكُم مِّنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَ انْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ۔(الزمر : ۵۴ تا ۵۶) کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔ان آیات میں ہمیں اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور اس کی رحمت کے عظیم اور حسین جلوے نظر آتے ہیں اور ہمیں بڑی وضاحت سے ان راہوں کا علم دیا گیا ہے کہ جن پر چل کے اللہ تعالیٰ کا ایک بندہ اس کی مغفرت اور اس کی رحمت کو حاصل کر سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ يُعِبَادِی الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمُ کہ انسان ضعیف ہے اگر چہ اس کو فطرت صحیحہ دی گئی ہے اور اس کے اندر یہ قوت اور یہ استعدا درکھی گئی ہے کہ وہ اپنے رب کا عبد بنے اور اس کی صفات کا مظہر بنے لیکن اسے یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ چاہے تو اپنے رب کی آواز پر لبیک نہ کہے بلکہ اس سے منہ