خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 989 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 989

خطبات ناصر جلد دوم ۹۸۹ خطبه جمعه ۲۱ نومبر ۱۹۶۹ء بہر حال باطن ہے۔بہر حال روح ہے، بہر حال ابدی صداقت ہے جو اللہ تعالیٰ میں ہو کر انسان حاصل کرتا ہے اور جو یہی ہے کہ خدا ایک ہے اور ہر خیر اور خوبی اُسی سے انسان حاصل کر سکتا ہے کسی دوسرے کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔بہر حال عبادت جو ہے وہ روح کے بغیر ایک بے حقیقت اور بے نتیجہ چیز ہے اور اس کا کوئی ثمرہ ظاہر نہیں ہوتا اور انسان کو اس کا کوئی پھل حاصل نہیں ہوتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے ایک جگہ بڑے مختصر الفاظ میں لیکن بڑے زور کے ساتھ عبادت کی حقیقت کو واضح کیا ہے۔آپ فرماتے ہیں:۔انسان خدا کی پرستش کا دعوی کرتا ہے مگر کیا پرستش صرف بہت سے سجدوں اور رکوع اور قیام سے ہو سکتی ہے یا بہت مرتبہ تسبیح کے دانے پھیر نے والے پرستار الہی کہلا سکتے ہیں بلکہ پرستش اُس سے ہو سکتی ہے جس کو خدا کی محبت اِس درجہ پر اپنی طرف کھینچے کہ اُس کا اپنا وجود درمیان سے اُٹھ جائے۔اوّل خدا کی ہستی پر پورا یقین ہو اور پھر خدا کے حسن و احسان پر پوری اطلاع ہو اور پھر اُس سے محبت کا تعلق ایسا ہو کہ سوزش محبت ہر وقت سینہ میں موجود ہو اور یہ حالت ہر ایک دم چہرہ پر ظاہر ہو اور خدا کی عظمت دل میں ایسی ہو کہ تمام دنیا اس کی ہستی کے آگے مُردہ متصور ہو اور ہر ایک خوف اُسی کی ذات سے وابستہ ہو اور اُسی کی درد میں لذت ہو اور اُسی کی خلوت میں راحت ہو اور اُس کے بغیر دل کو کسی کے ساتھ قرار نہ ہو۔اگر ایسی حالت ہو جائے تو اُس کا نام پرستش ہے۔پس جو آیت میں نے ابھی تلاوت کی ہے اس میں بنیادی نکتہ وَاعْبُدُوا رَبَّكُمُ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے ایمان والو! تم نے ہماری آواز پر لبیک کہتے ہوئے ایک عظیم ذمہ داری اپنے کندھوں پر یہ اُٹھائی ہے کہ تم ایمان کے تقاضوں کو پورا کرو گے اور جس بات کی طرف ہم تمہیں ٹلاتے ہیں اور جس پر ایمان لانے کا ہم تمہیں کہتے ہیں وہ یہ ہے کہ اپنے رب کی عبادت کرو۔عبودیت تامہ کے حصول کی کوشش کرو اور اسی میں ہمہ تن لگے رہو اور اس کی طرف ہمیشہ متوجہ رہو تاکہ تم خدا تعالیٰ کے ایک سچے بندے اور حقیقی عبد بن جاؤ۔چنانچہ عبودیت تامہ کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس مذکورہ آیہ کریمہ میں دو بنیادی باتوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ایک ہے تہی ہونا