خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 987
خطبات ناصر جلد دوم ۹۸۷ خطبه جمعه ۲۱ / نومبر ۱۹۶۹ء کر رہے ہیں یا اور دوسرے نیکی کے کام جو اللہ تعالیٰ نے بتائے ہیں اُن کے ظاہر پر زور دینے لگ جاتے ہیں مگر حقیقت نماز سے نا آشنا اور حکمت روزہ سے بے خبر ہوتے ہیں۔اس قسم کی عبادت عند اللہ عبادت متصور نہیں ہوتی۔مجھے اس وقت ایک بزرگ کا واقعہ یاد آ گیا ہے۔حضرت داتا گنج بخش نے اپنی کتاب کشف محجوب میں لکھا ہے کہ ایک شخص بڑے بزرگ تھے لیکن ابھی گہرائیوں میں ان کی پہنچ نہیں ہوئی تھی۔وہ نیکیوں کے ظاہر پر بڑا زور دیتے تھے۔ایک دفعہ وہ ایک اور بزرگ سے جن کی بڑی شہرت تھی ملنے گئے جب یہ وہاں پہنچے تو مغرب کی نماز ہو رہی تھی۔یہ بھی نماز میں شامل ہو گئے مگر یہ بزرگ جو نماز پڑھا رہے تھے اور جن کی اُنہوں نے بڑی شہرت سنی ہوئی تھی اور جن کی ملاقات کے لئے یہ صاحب ایک لمبا سفر طے کر کے وہاں پہنچے تھے وہ سورۂ فاتحہ کی تلاوت بھی صحیح نہیں کر رہے تھے چنانچہ یہ بڑے مایوس ہوئے اور اپنے دل میں یہ خیال کیا کہ میں نے اتنے لمبے سفر کی تکلیف بلا وجہ اور بے فائدہ اُٹھائی ہے۔رات یہاں گزارتا ہوں صبح واپس چلا جاؤں گا۔انہوں نے شاید استغفار بھی کی ہوگی کہ بڑا گناہ ہو گیا ہے۔چنانچہ صبح سویرے اُٹھے دریا قریب تھا دریا کی طرف جارہے تھے تاکہ قضائے حاجت سے فارغ ہو کر وضو کر کے عبادت کریں مگر کیا دیکھتے ہیں کہ ایک شیر راستے میں سویا ہوا ہے وہ اُن کے پاؤں کی آواز سے دفعہ اُٹھا اور ان کے پیچھے بھا گا یہ آگے آگے تھے اور وہ اُن کے قدم بقدم پیچھے پیچھے آرہا تھا جس وقت اُس بزرگ کی عبادت گاہ کے قریب پہنچے جن کی قرآت اُن کو اچھی نہیں لگی تھی اور جن کے متعلق ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا تھا کہ جو شخص سورہ فاتحہ کی تلاوت بھی صحیح نہیں کر سکتا وہ بزرگ کیا ہو گا وہ اُس وقت اپنی عبادت گاہ سے باہر نکل رہے تھے وہ آگے بڑھے اور شیر کے کان پکڑ لئے اور اس کو کہنے لگے کہ اللہ کے کتو ! کیا میں نے تمہیں یہ کہا نہیں ہوا کہ تم نے میرے مہمانوں کو تنگ نہیں کرنا شیر دُم ہلا رہا تھا اور اُن کو کچھ نہیں کہہ رہا تھا۔چنانچہ جب اُنہوں نے شیر سے کہا کہ یہاں سے چلے جاؤ تو وہ فوراً وہاں سے چلا گیا پھر وہ ان سے مخاطب ہوئے اور کہنے لگے کہ تم لوگ ظاہر کا زیادہ خیال رکھتے ہو اور ریا سے بچتے نہیں اس لئے مخلوق خدا سے خوف کھاتے ہو پھر انہوں نے بڑے نمایاں رنگ میں اور بڑے عجیب طریق