خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 978
خطبات ناصر جلد دوم 927 خطبہ جمعہ ۱۴ نومبر ۱۹۶۹ء کہ کسی اور کو اس کی زبان یا ہاتھ سے کوئی دکھ نہ پہنچے۔آپ نے فرمایا ہے کہ جو شخص ان چیزوں کا خیال نہیں رکھتا اسے یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کو صرف یہ بات محبوب نہیں ہو سکتی کہ کسی نے کھانا پینا چھوڑ دیا اور بھوکا پیاسا رہا بلکہ اس کے پیچھے جو حکمت ہے اور اس میں جو سبق دیا گیا ہے اس حکمت اور سبق کو یاد رکھ کر اس سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔سخاوت حقوق العباد کی طرف اشارہ کرتی ہے اور یہ علامت ہے تمام حقوق عباد کی ادائیگی کی اور اس میں یہ فرمایا ہے کہ بنیادی حکم یہ ہے کہ دوسروں سے تعلقات میں صرف عدل اور انصاف پر نہیں ٹھہر جانا بلکہ جو دوسخا کرنی ہے اگر ہر شخص یہ کوشش کرے کہ میرے بھائی انسان کا جو حق ہے میں نے صرف وہی ادا نہیں کرنا بلکہ میں نے اس حق سے زائد ادا کرنا ہے تو ساری بیماریاں معاشرہ کی اور ساری خرابیاں اقتصادیات کی خود بخود دور ہو جاتی ہیں اور اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ جو نفس کی آفات ہیں یعنی ایسی نفسانی خواہشات جو انسان کو ناپاکی ( کی) طرف بلا رہی ہوں اور اسے گندگی کی طرف دھکیل رہی ہوں ان خواہشات نفس اور آفات نفس سے بچنے کی کوشش کی جائے اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ برائی سے بچنے کے لئے اس قدر احتیاط بر تو کہ نفس کے جائز حقوق کو بھی ایک حد تک چھوڑ دو مثلاً میاں بیوی کے تعلقات ہیں۔یہ تعلقات بہر حال جائز ہیں لیکن روزہ کے ایام میں روزہ کے دوران ان تعلقات کو قائم کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔رات کے وقت تو ان تعلقات کو قائم کرنے کی اجازت ہے لیکن روزہ کے وقت اسلام نے یہ تعلقات بھی چھڑوا دیئے۔یہ سبق دینے کے لئے کہ آفات نفس سے بچنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو حدود قائم کی ہیں ان حدود کے قریب بھی آدمی نہ جائے۔ہاں ان حدود سے ورے اجازت ہے۔حد ایک باریک لکیر ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ تعلیم دی ہے کہ اس باریک لکیر کے قریب بھی نہ جاؤ۔( دوسری جگہ اس کی وضاحت کر دی ہے ) بلکہ کافی کرے رہوتا کہ تم کسی قسم کا کوئی خطرہ مول نہ لو۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (ماہِ رمضان ) کو صبر کا مہینہ بھی کہا ہے اور جو آیت ابھی میں نے تلاوت کی ہے یعنی وَ اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوة اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے۔اس کا ایک بطن میرے نزدیک یہ بھی ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ صبر کے ذریعہ یعنی