خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 971
خطبات ناصر جلد دوم ۹۷۱ خطبہ جمعہ کے نومبر ۱۹۶۹ء کی ایک ایسی کتاب ہے جس کے علوم سے حصہ لینا چاہیے نہ یہ کہ محض جلدی جلدی تلاوت کر لی جائے جو دوسروں کو کیا خود اپنے آپ کو بھی سمجھ نہ آئے۔پس اگر انسان پورے غور سے اور پوری طرح سمجھتے ہوئے قرآن کریم پڑھ سکتا ہے تو پھر جتنی تیزی سے وہ چاہے پڑھے اس میں کوئی حرج نہیں لیکن اگر کوئی شخص صرف ایک سیپارہ غور سے پڑھ سکتا ہے تو اس کو ڈیڑھ سیپارہ نہیں پڑھنا چاہیے اور میں سمجھتا ہوں اگر کوئی ایسا شخص ہو اور ضرور ایسے ہوں گے جن کو شروع سے پڑھنے کی توفیق نہیں مل سکی۔ہم نے کئی ایک کو تعلیم بالغاں کے ذریعہ قرآن کریم پڑھوایا ہے جس طرح مثلاً اب بھی ہم تاکید کر رہے ہیں کہ قرآن کریم کو اس کے ترجمہ کے ساتھ لوگوں کو پڑھایا جائے۔اگر کوئی آدمی صرف ایک ربع یعنی سیپارے کا چوتھا حصہ غور سے پڑھ سکتا ہے تو اس کو آدھا سیپارہ نہیں پڑھنا چاہیے کیونکہ ہم نے ایسا نہیں کرنا کہ ایک چکر بنایا اور اس کو چکر دے کر کہہ دیا کہ ایک کروڑ دفعہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی حمد یا اس کی تسبیح بیان کر دی ہے۔قرآن کریم کو پورے غور سے پڑھنا اور اس نیت کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کے سمجھنے کی توفیق دے اور پھر اللہ تعالیٰ اس بات کی بھی توفیق دے کہ ہم اس پر عمل کرنے والے ہوں تب تلاوت قرآن کریم کا فائدہ ہے اور تب اللہ تعالیٰ کی صفت رحیمیت کے جلوے انسان دیکھتا ہے۔پس خدا تعالیٰ کے رحیم ہونے کی صفت کے ساتھ ماہِ رمضان کا بڑا گہرا تعلق ہے۔اس سلسلہ میں بہت سی باتیں مجھے چھوڑنی پڑیں گی۔چند باتیں جو میں اس وقت بیان کرنا چاہتا ہوں ان میں تلاوت قرآن کریم کی کثرت بھی ہے۔تلاوت قرآن کریم کا خدا تعالیٰ کی صفت رحیمیت کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے۔اللہ تعالیٰ کے رحم کا ایک پہلو اس کی صفت رحیمیت کی وجہ سے جوش میں آتا ہے اور قرآن کریم کے فیوض سے وہی شخص مستفید ہو سکتا ہے جس کے لئے خدا تعالیٰ کی صفت رحیمیت جوش میں آتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے متعلق فرمایا ہے۔د کسی فرد انسانی کا کلام الہی کے فیض سے فی الحقیقت مستفیض ہو جانا اور اس کی برکات اور انوار سے متمتع ہو کر منزل مقصود تک پہنچنا اور اپنی سعی اور کوشش کے ثمرہ کو حاصل