خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 944
خطبات ناصر جلد دوم ۹۴۴ خطبہ جمعہ ۱۷ اکتوبر ۱۹۶۹ء اپنے بد ارادوں کے حصول کے لئے دعا بھی کرتی ہے۔سو وہ دعا بھی کرے کہ جو اللہ کا منشا ہے وہ پورا نہ ہو اور جو ان کا منشا ہے وہ پورا ہو جائے۔اس قسم کی دعائیں کرتے ہوئے چاہے ان کے ناک گھس جائیں نہ ان کی تدبیر کامیاب ہوگی نہ ان کی دعائیں ثمر آور ہوں گی اور نہ ان کا کوئی نتیجہ نکلے گا کیونکہ ہر دعا اور ہر سوال اللہ سے جو اس کے ارادہ اور منشا اور رضا کے خلاف ہوتا ہے وہ دعا کرنے والے کے منہ پر مار دیا جاتا ہے قبول نہیں ہوتا۔غرض محض دعا کافی نہیں اس دعا کی ضرورت ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے والی ہو۔پھر محض تدبیر کافی نہیں۔ان اعمال کی ضرورت ہے جو مشکور ہوں جن کا اللہ تعالیٰ کوئی نتیجہ نکالے اور وہ ضائع نہ ہوں تو اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں فرمایا ہے کہ ایک بڑی ذمہ داری تم پر ڈالی گئی ہے۔پھر فرماتا ہے کہ تمہاری راہ میں ہر منکر اور منافق اور شست اعتقاد روکیں ڈالے گا۔پھر کام مشکل بھی ہے۔اگر یہ لوگ روکیں نہ بھی ڈالتے تب بھی یہ آسان نہ ہوتا۔ساری دنیا کے دلوں کو خدا اور اس کے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جیتنا آسان کام نہیں اگر شیطان روکیں نہ بھی ڈالے تب بھی بڑا مشکل کام ہے لیکن یہاں تو یہ صورت ہے کہ کام مشکل بھی ہے اور ساری دنیا اس کام کی مخالف بھی ہے اور چاہتی یہ ہے کہ ہماری کوششوں کا کوئی نتیجہ نہ نکلے۔اسلام کو کامیابی اور کامرانی حاصل نہ ہو اور اپنی اس خواہش کو پورا کرنے کے لئے وہ ہر قسم کی تدبیریں کرتے ہیں قربانیاں دیتے ہیں وہ اپنے مالوں کو پیش کرتے ہیں مثلاً اسلام کے مقابلہ میں اس وقت صرف عیسائیت ہی جتنی رقم جتنی دولت اور جتنا مال خرچ کر رہی ہے اس کا شاید ہزارواں حصہ بھی جماعت احمدیہ کے پاس نہیں کہ وہ خدا کی راہ میں خرچ کرے۔غرض مخالفین اسلام کو نا کام کرنے کے لئے ہر قسم کی قربانی دیتے ہیں لاکھوں کی تعداد میں زندگیاں وقف کرتے ہیں۔اربوں کی مقدار میں اموال دیتے ہیں اور صاحب اقتدار لوگوں کی پشت پناہی میں منصو بے باندھتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں۔اگر تمہارے دل میں وہ اخلاص ہو جس سے میں پیار کرتا ہوں اگر تمہارے اعمال مخلصانہ بنیا دوں پر ہوں جو مجھے پسند ہیں اور جن کو میں قبول کرتا ہوں تو نتیجہ تمہارے حق میں نکلے گا۔خواہ دنیا جتنا چاہے زور لگالے خواہ منافق اندرونی