خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 937 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 937

خطبات ناصر جلد دوم ۹۳۷ خطبه جمعه ۱۰/اکتوبر ۱۹۶۹ء کے پیار اور اس کے فضل کی جھلک دیکھتا ہوں۔اس کے یہ بے شمار نشانات بارش کے قطروں کی طرح نازل ہوتے ہیں مگر جتنا اللہ تعالی زیادہ پیار کرتا ہے جتنی وہ زیادہ نعمتیں نازل کرتا ہے اتنا ہی میر اسر اور زیادہ اس کے حضور جھک جاتا ہے۔ایک دفعہ مجھے اسی کیفیت میں یہ خیال آیا کہ انسان زمین پرا اپنی پیشانی رکھ کر سجدہ کیوں کرتا ہے تو مجھے میرے ذہن نے یہ جواب دیا کہ انسان زمین پر اپنی پیشانی رکھ کر اپنی عاجزی کا اظہار اس لئے کرتا ہے کہ زمین سے بھی نیچی چیز سے کوئی اور میٹر نہیں آ رہی ہوتی ورنہ وہ اور زیادہ جھک جائے۔پس خلافت ایک نعمت ہے اگر آپ اس کی قدر کریں گے، اگر آپ اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھا ئیں گے تو اس میں آپ کی اپنی دین و دنیا کی بھلائی ہے اور اگر آپ اس کی قدر نہیں کریں گے اور آپ اس سے فائدہ نہیں اُٹھا ئیں گے تو میرا کوئی نقصان نہیں ہے اس واسطے کہ خلیفہ وقت کو اپنی ہر قسم کی عاجزی اور کم مائیگی کے باوجود خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک غنا کا مقام بھی حاصل ہوتا ہے اور اس وجہ سے حاصل ہوتا ہے کہ اس کی ہر طاقت اور اس کی ہر کوشش کا سہارا اور تکیہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہوتی ہے۔اگر خدا تعالیٰ کی قوت اور اس کی طاقت یعنی اس کی نہایت اعلیٰ صفات اس کا تکیہ اور سہارا نہ ہوں تو ایک لحظہ کے لئے بھی کسی خلیفہ وقت کا زندہ رہنا ہی ممکن نہ ہو۔جس وقت اس کی ذمہ داریوں کا ہجوم اس پر یلغار کرتا ہے یا جس وقت طعن کرنے والی زبانیں اس پر حملہ آور ہو رہی ہوتی ہیں تو اس وقت وہ اپنے رب کی طرف بھاگتا ہے اور اپنے رب میں گم ہو کر مخالف طاقتوں کی طرف منہ کرتا اور مسکراتا ہے اور اس کے لب پر یہ ہوتا ہے۔ع نہاں ہم ہوگئے یارِ نہاں میں اس کو کوئی فکر نہیں ہوتی اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے متعد دجگہ فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ کے ایسے بندے منافقوں ،سست اعتقادوں اور متکبروں کی کوئی پروا نہیں کرتے اور ان کو ایک مُردہ کیڑے کی طرح سمجھتے ہیں اور خدا کی قسم آپ نے جو بھی فرمایا ہے بالکل سچ فرمایا ہے جس شخص نے علی وجہ البصیرت یہ سمجھ لیا ہے کہ میرے اندر کوئی طاقت نہیں، کوئی ہنر نہیں اور جس نے علی وجہ البصیرت یہ یقین حاصل کر لیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس مسند خلافت پر اس وعدہ سے