خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 81
خطبات ناصر جلد دوم ΔΙ خطبه جمعه ۲۲ / مارچ ۱۹۶۸ء پس پہلی ذمہ داری ربوہ پر ہے کہ وہ سب سے آگے نکلے کیونکہ ان کو اللہ تعالیٰ نے نیکیوں کے سننے کے مواقع بھی زیادہ دیئے ہیں اور نیکی بجالانے کی سہولتیں بھی بہت میٹر کی ہیں اور دوسروں کی نسبت دنیوی انعامات بھی ان کے اوپر بہت زیادہ ہیں۔مثلاً دنیوی انعامات میں سے ایک مال کا انعام ہے اگر آپ جائزہ لیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ ایک لاکھ سے زائد کی رقم ربوہ کے مستحقین پر ہر سال خرچ کی جاتی ہے اتنی رقم باہر کی جماعتوں پر خرچ نہیں ہوتی مثلاً کراچی میں قریبار بوہ جتنی آبادی ہے احمدیوں کی۔کراچی کی آبادی تو زیادہ ہے لیکن جتنی احمدی آبادی ربوہ میں ہے قریباً اتنی ہی آبادی کراچی میں پائی جاتی ہے اور قریباً اتنی ہی آبادی لاہور میں پائی جاتی ہے کم و بیش اتنی آبادی ممکن ہے بعض دوسرے شہروں میں بھی پائی جاتی ہولیکن ان دو شہروں کے متعلق تو میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ان کی احمدی آبادی ربوہ کی آبادی کے کم و بیش برابر ہے لیکن وہاں کے ضرورت مند بڑی تکلیف میں بعض دفعہ ہوتے ہیں ایک حد تک جماعتیں ان پر خرچ بھی کرتی ہیں لیکن اتنی رقم (ایک لاکھ سے زائد رقم ) وہاں کے ضرورت مند احمدیوں پر خرچ نہیں ہو رہی تو یہ اللہ تعالیٰ کا ایک ایسا فضل ہے جو بہت سی ذمہ داریاں بھی عاید کرتا ہے لیکن اگر ربوہ کے مکین اپنی ضرورتوں کے وقت جماعت سے یہ تو کہیں کہ وَفي اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّابِلِ وَالْمَحْرُومِ الذُّرِيت :۲۰) کے ماتحت ہماری ضرورتوں کو پورا کر ولیکن جب انہیں یہ کہا جائے کہ روح مسابقت دوسروں کی نسبت تم میں زیادہ ہونی چاہیے نیکیوں کی طرف تمہیں زیادہ متوجہ ہونا چاہیے اللہ تعالیٰ کی راہ میں زیادہ خلوص کے ساتھ اور زیادہ خشوع کے ساتھ اپنی زندگیاں تمہیں گزارنی چاہئیں دوسری جماعتوں کی نسبت۔کیونکہ تمہارا ماحول ان کے مقابلہ میں زیادہ پاکیزہ اور نیکیوں کے بجالانے کی یہاں زیادہ سہولت ہے تو تم شستی دکھاؤ تو یہ تو اللہ کو پسند نہیں کہ اس کے دنیوی فضلوں میں تو حصہ لینے کی تم کوشش کرو اور عملاً لو بھی لیکن اس کی راہ میں جب قربانیوں کا وقت آئے تو تم کہو کہ کراچی یہ قربانی دے لا ہور یہ قربانی دے یا سیالکوٹ یہ قربانی دے یا پنڈی یہ قربانی دے یا پشاور یہ قربانی دے ہم نہیں دیں گے تو یہ درست نہیں۔جو اخلاق غربا سے تعلق رکھتے ہیں وہ نہایت حسین رنگ میں نمایاں طور پر ربوہ کے غریب احمدیوں میں نظر آنے چاہئیں۔اللہ تعالیٰ کے اموال میں سے تو