خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 80 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 80

خطبات ناصر جلد دوم ۸۰ خطبه جمعه ۲۲ / مارچ ۱۹۶۸ء نے صدقہ و خیرات بھی دیا دوسری نیکیاں کرنے کی بھی کوشش کی مگر ہم نہیں جانتے کہ یہ ہمارے رب کو مقبول بھی ہوں گی یا نہیں ہم نے سوائے اس کے کسی اور کے سامنے جواب دہ نہیں ہونا اور جس کے سامنے ہم جواب دہ ہیں اس کے متعلق ہم کہہ نہیں سکتے کہ قبولیت کو ہماری نیکیاں پہنچی ہیں یا نہیں پس وہ لوگ نیکیاں تو قرآن کریم کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق ہر آن اور ہر وقت بجا لاتے رہتے ہیں لیکن تمام نیکیاں بجالانے کے بعد بھی ان کے دلوں میں یہ خوف رہتا ہے کہ جس کے سامنے جواب دہ ہیں ہم ، نا معلوم اس نے ہماری نیکیوں کو قبول بھی کیا ہے یا نہیں۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جن میں چار باتیں پائی جاتی ہیں وہ ہیں أُولَبِكَ يُسْرِعُونَ فِي الخَيْراتِ جن کے متعلق یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ہمارے اس حکم کی تعمیل کی کہ سَارِعُوا الی مَغْفِرَةٍ مِنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَوتُ وَالْأَرْضُ (ال عمران : ۱۳۴) اور یہی وہ لوگ ہیں جن کے اندر مسابقت کی روح پیدا ہوسکتی ہے وہ جو اپنے رب کی۔خشیت کا احساس نہیں رکھتے وہ جو اپنے رب کی آیات عظیمہ ( قرآن عظیم ) پر ایمان نہیں لاتے وہ جن کے دلوں میں شرک کی باریک معصیت پائی جاتی ہے اور وہ جو جب نیکی کرتے ہیں تکبر سے کام لیتے ہیں سمجھتے ہیں کہ ہم نے ایسے کام کئے ہیں کہ اب ہمارا رب مجبور ہے کہ ہماری ان باتوں کو قبول کرے اور ہمیں بہتر جزا دے وہ لوگ مسابقت فی الخیرات اور يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْراتِ کے مصداق نہیں ہوا کرتے نہ ان میں مُسَابَقَتُ فِي الْخَيْرَات پائی جاتی ہے نہ وہ جلدی جلدی نیکیوں کی طرف متوجہ ہونے والے اور حرکت کرنے والے ہوتے ہیں۔اس واسطے وہ لوگ جو صرف ہمارے دنیوی احسانوں کو دیکھ کر اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ انہوں نے سَارِعُوا إلى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَّبِّكُمْ پر عمل کیا اور يُسْرِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَهُمْ لَهَا سَبِقُونَ کے گروہ میں شامل ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو انہوں نے حاصل کیا حالانکہ ان کے اندر یہ چار خوبیاں پائی نہیں جاتیں۔وہ غلطی پر ہیں لا يَشْعُرُونَ۔مومنوں میں روح مسابقت کا پایا جانا ضروری ہے۔یہ افراد میں بھی ہوتی ہے اور جماعتوں میں بھی اور سب سے زیادہ اس کی طرف مرکز کو متوجہ ہونا چاہیے۔