خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 882 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 882

خطبات ناصر جلد دوم ۸۸۲ خطبہ جمعہ ۱۹ ستمبر ۱۹۶۹ء ایک استحقاق پیدا کر دیتا ہے یعنی وہ کہتا ہے تمہارا میں نے یہ حق قائم کر دیا ہے پھر وہ اس سے وہ حق چھینتا نہیں بلکہ جو حق رحیمیت کے جلوے نے قائم کر دیا تھا وہ حق اسے دیتا ہے اس کے سامان پیدا کرتا ہے۔ایک تو ہمیں یہ معرفت حاصل ہونی چاہیے کہ سوائے اللہ کے کوئی ذات ایسی نہیں جو تربیت کی متکفل ہو جو نشو ونما کو کمال تک پہنچانے کی ذمہ داری لیتی ہو۔ماں باپ بھی یہ ذمہ داری نہیں لے سکتے۔کتنے ماں ماپ ہیں جن کے بڑے ذہین بچے ہوتے ہیں لیکن وہ ان کی تربیت نہیں کر سکتے دنیا کی کوئی مخلوق بھی یہ تربیت نہیں کر سکتی لیکن ہمیں انسان کی بات کرنی چاہیے اللہ تعالیٰ نے اسے اشرف المخلوقات کے مقام پر کھڑا کیا ہے۔کوئی انسان اس معنی میں اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر ربوبیت نہیں کر سکتا۔انسان اگر یہ کہے کہ میں اپنے زور سے یہ کروں گا تو وہ نہیں کرسکتا۔بہتوں نے دعوی کئے لیکن وہ اپنے دعوؤں کو سچا کر کے نہ دکھا سکے۔آپ روس کے کمیونزم کو لے لیں آپ سوشلسٹ ممالک کے سوشلزم کو لے لیں آپ سرمایہ دارانہ حکومتوں کے دعاوی کو لے لیں کسی جگہ بھی آپ کو یہ نظر نہیں آئے گا کہ ہر شخص کی اس معنی میں ربوبیت ہورہی ہو۔بعض کی وہ ربوبیت کرتے ہیں مثلاً فیورٹزم (Favouritims) ہے لیکن یہاں بعض کا سوال نہیں یہاں سوال یہ ہے کہ وہ ہر مخلوق کی تربیت کے متکفل ہوں اور ایسا وہ نہیں کرتے بلکہ انہوں نے تو مزدور کی تنخواہ اور ڈیلی ویجز (Daily Wages) کے ساتھ ایسا قانون باندھ دیا ہے کہ کم ہی مزدور ہیں جن کے حقوق انہیں ملتے ہیں جن کی ربوبیت کے یہ لوگ متکفل کہلائے جا سکتے ہیں۔یعنی وہ کہتے تو ہیں کہ ہم تمہاری جسمانی اور روحانی استعدادوں کی نشو ونما کریں گے اور اس کے لئے تمام سامان مہیا کرنے کے ہم ذمہ دار ہیں لیکن وہ عملاً ایسا کر نہیں سکے۔غرض ربوبیت کی صفت کے اندر جو یہ ذمہ داری ہے یہ کہیں نہیں پائی جاتی صرف خدا کے بندوں میں ہمیں یہ نظر آسکتی ہے اور جو دوسری ذمہ داری ہم پر ہے اس کے ماتحت ہمیں خدا کا بندہ بننا چاہیے۔اگر ہم اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم کرنا چاہتے ہیں تو محض اس کی صفات کا عرفان کافی نہیں بلکہ اپنے اندر ان صفات کو پیدا کرنا بھی ضروری ہے ورنہ تو یہ ایک فلسفہ ہے جس کا حسن اور نہ احسان غیر کا دل موہ لینے کے قابل ہے