خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 849
خطبات ناصر جلد دوم ۸۴۹ خطبہ جمعہ ۵ ستمبر ۱۹۶۹ء کے لحاظ سے محدود ہیں اور پھر ان کو ایک تنگ دائرہ میں لہروں کے ساتھ Tune ( ٹیون ) کر دیا۔اب انسان نے بعض ایسی ویلیس (Whistles) بنالی ہیں کہ جن کی آواز شکاری کتا سن لیتا ہے لیکن اس کے ساتھ کا آدمی نہیں سن سکتا اور جس شکار کے پیچھے وہ گیا ہوتا ہے اس کو بھی وہ آواز سنائی نہیں دیتی صرف شکاری کتے کو وہ آواز سنائی دیتی ہے۔یعنی ایسی لہر دریافت کر لی ہے جو صرف کتے کے کان سن سکتے ہیں۔غرض ہر چیز کی حد بندی کر دی یہ حد بندی کا ایک الگ وسیع مضمون ہے لیکن میں اس وقت صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے یہ فرمایا تھا کہ زمین میں اللہ تعالیٰ کی صفات اس رنگ میں جلوہ گر ہوئیں کہ انسانی قوی کا جو بھی تقاضا تھا اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کو اس چیز میں مخلوق کر دیا۔اب یہ مضمون ہے جو اس آیہ کریمہ خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا میں بیان ہوا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر جو بھی قوت پیدا کی اس کو محدود اور مقید کر دیا۔زمین میں جوصفاتِ باری تعالیٰ کے جلوے تھے ان کے ساتھ انسان کو باندھ دیا۔کان کی شنوائی کو صوتی لہروں کے ایک خاص حصے سے جوڑ دیا یہی حال آنکھ کا ہے۔یہی حال زبان کا ہے۔بہت سی چیزیں ہیں جو انسان بڑے شوق سے کھاتا ہے لیکن جانوروں میں سے بعض جانور ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اگر ان کے سامنے آپ وہ چیز ڈال دیں تو وہ ناک چڑھا کر پرے ہٹ جاتے ہیں اس چیز کو منہ تک نہیں لگاتے یعنی جس چیز کو جانور منہ نہیں لگاتے اُسے انسان کے مناسب حال بنا دیا۔اس سے انسان کو خود ہی سوچنا چاہیے تاکہ اس کے دل میں غرور اور تکبر پیدا نہ ہو اور اللہ تعالیٰ نے اسے جو عظمت بخشی ہے وہ تو یہ ہے کہ انسان نے جس چیز کو دھتکار دیا جانوروں نے اس کو قبول کر لیا۔بہر حال اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ زمین میں بے شمار خصوصیات ہیں جن میں سے بعض کا میں نے اس وقت ذکر کیا ہے۔مثلاً ہوا ہے، پانی ہے، پھر پانی کی آگے مناسب تقسیم کا انتظام ہے، کھانے پینے کی متنوع اشیاء ہیں، متوازن غذا ئیں ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ کی قدرت کا یہ عجیب نظارہ ہے کہ کھانے کی مختلف چیزیں ایک جیسی زمین اور ایک جیسے پانی سے پیدا ہو جاتی ہیں۔پھر ہر ایک چیز میں توازن کے اصول کارفرما ہیں۔غرض تم نے زبانِ حال سے جس چیز کا بھی مطالبہ کیا ہے زمین تمہارے مطالبات کو پورا