خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 846 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 846

خطبات ناصر جلد دوم ۸۴۶ خطبہ جمعہ ۵ ستمبر ۱۹۶۹ء جگہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلوے جو ہر وقت ظہور پذیر ہورہے ہیں ان کے نتیجہ میں مخلوق میں نئے خواص پیدا ہو جاتے ہیں۔مثلاً خشخاش کا دانہ ہے آج سے سو سال پہلے انسان نے اس کے جو خواص معلوم کئے تھے آج ہم نے ان سے کہیں زیادہ معلوم اور دریافت کر لئے ہیں۔پس ضروری نہیں کہ یہ نئے دریافت شدہ خواص سو سال پہلے بھی اس میں موجود ہوں۔ہو سکتا ہے اس سوسال کے عرصہ میں اللہ تعالیٰ کی صفات کے نئے جلوؤں کی وجہ سے مزید خواص رونما ہوئے ہوں۔پس صفاتِ باری تعالیٰ کے یہ جلوے اور زمین کی قبولیت کے یہ آثار ابتدائے آفرینش سے اب تک جاری ہیں۔زمین صفات باری تعالیٰ کے جلوؤں کی آماجگاہ بنی ہوئی ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کی صفات کے ان مخصوص جلوؤں کا سلسلہ ایک لحظہ کے لئے بھی منقطع ہو جائے تو یہ سارا کارخانہ عالم درہم برہم ہو جائے۔اگر انسان ایک لحظہ کے لئے اس دائرہ صفات باری اور دائرہ قبول اثر یعنی زمین میں جو آسمان سے اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلوؤں کو اپنے اندر قبول و جذب کر کے ان کو زندگی اور بقا اور تازگی اور نئے خواص کا جامہ پہنانے کی اہلیت ہے وہ نہ ہو تو اگر انسان ایک لحظہ کے لئے بھی اس دائرہ سے باہر قدم رکھے تو ہلاکت کے گڑھے میں جا گرے جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ قرآن کریم نے جس مخلوق کو زمین کہا ہے اس سے باہر انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : لَهُ مُلْكُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ - (الفرقان : ٣) اس مضمون پر قرآن کریم نے دو زاویوں سے روشنی ڈالی ہے۔پہلے میں دوسرے نقطۂ نگاہ کو پیش کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاشْكُم مِّنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ - (ابراهيم : ۳۵) اللہ تعالیٰ نے اصولی طور پر اس وسیع مضمون کو اس صورت میں بیان فرمایا ہے کہ انسان اشرف المخلوقات کی حیثیت میں پیدا کیا گیا ہے اور ہر دوسری مخلوق کو اس کی خدمت پر لگا دیا گیا ہے لیکن اس میں اس سوال کا جواب نہیں آتا تھا کہ ہمیں جتنے خادم درکار تھے وہ دیئے گئے ہیں یا نہیں۔یعنی جو چیز ہمیں میسر آئی ہے وہ تو بہر حال خادم ہے لیکن ہماری ساری ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے جتنے خادم چاہیے تھے آیا وہ ہمیں ملے ہیں یا نہیں اس کا جواب اس فقرہ میں نہیں آتا۔پس اللہ تعالیٰ نے وَالكُمْ مِنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ (ابراهیم : ۳۵) کہہ کر ی تسلی بخش جواب دیا